اسلام آباد: پرچم کشائی کی مرکزی تقریب ایوانِ صدر میں ہوئی جس میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ وفاقی وزراء، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئرمین سینیٹ اور اراکینِ قومی اسمبلی بھی پرچم کشائی کی تقریب میں شریک ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق آج صبح کے وقت اسلام آباد میں جشنِ آزادی کے موقعے پر پرچم کشائی کی مرکزی تقریب کا اہتمام ایوانِ صدر میں کیا گیا جس میں قاری وحید ظفر قاسمی نے قرآنِ پاک کی تلاوت کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، نیول اور ائیر اسٹاف کے سربراہان و افسران نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
پرچم کشائی کی مرکزی تقریب سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ قوم کو یومِ آزادی کے موقعے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کورونا جیسی مشکل سے نکالا اور ہمیں جینے کا حق نصیب ہوا۔ قائدِ اعظم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
تقریب سے خطاب کے دوران صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ سر سید احمد خان نے تعلیم کے فروغ کیلئے جدوجہد کی۔ آج برصغیر میں اسلحے کے دوڑ جاری ہے جس نے غربت میں اضافہ کیا۔
خطاب کے دوران صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کو مختلف آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک کا جوہری طاقت بننا ایک بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔ بلین ٹری سونامی ایک بہترین اقدام ہے۔ ہر بار پاکستان کے خلاف بھارت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ ہم نے نوجوانوں کو نظر انداز نہیں کیا۔
جشنِ آزادی کے موقعے پر اپنے خطاب میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کو کاروبار کیلئے قرض فراہم کیا۔ پاکستان ڈیجیٹل دنیا میں جارہا ہے اور ہمیں اب مزید آگے بڑھنا ہے۔ ہمسایہ ممالک میں کورونا نے کیا تباہی مچائی اور پاکستان نے کیا کردار ادا کیا، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔
صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کورونا وباء کا مقابلہ کرنے کے دوران بھی ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن رہی۔ قوم نے ثابت کیا کہ ہم ہر مشکل اور آزمائش پر پورے اتر سکتے ہیں۔ ہم نے کورونا کے دوران مساجد کھلی رکھیں اور وائرس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ غربت کے خاتمے کیلئے صحت اور تعلیم پر اقدامات اہم ہیں۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دیگر ممالک مہاجرین کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ مہاجرین کو کشتیوں میں ڈوبنے دیا جاتا ہے لیکن ان کو پناہ فراہم نہیں کی جاتی۔ افغانستان کے حالات خراب ہونے پر پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی۔ کورونا کی ہر لہر میں ہمارا کردار بہترین رہا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیامِ امن کیلئے پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا۔ 35 لاکھ افغان مہاجرین کو اخلاقی بنیادوں پر پناہ فراہم کی۔ افغانستان میں جاری صورتحال پر ہیجانی کیفیت طاری ہے۔ امن ضرور آئے گا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی خبریں پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ افغانستان میں جنگ سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے قائدِ اعظم کے نظریات پرچلنا ہوگا۔صدرِ مملکت
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








