بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اسلام اور مسلمانوں سے اپنی نفرت دبانے میں ناکام نظر آتے ہیں، چنانچہ بی جے پی کے ایک اور رہنما نے گستاخانہ ٹوئٹ کر دی، جس پر اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بی جے پی کی طلبا تنظیم کے رہنما ہرشیت شری واستو کو گستاخانہ ٹوئٹ پر شدید عوامی احتجاج کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ہرشیت کانپور کے رہنے والے ہیں، انھوں نے ٹوئٹر پر نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ ٹوئٹ کی اور مذہبی فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔
کانپور میں پہلے ہی نماز جمعہ کے بعد سے نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج چار دن گزر جانے کے باوجود جاری ہے اور ہر دن اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس پر قابو پانے میں مودی سرکار مکمل طور پرناکام نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
جنونی بھارتی اینکر کی مسلمانوں کے مقدس مقامات کیخلاف ہرزہ سرائی
نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کا معاملہ ابھی تھما نہیں تھا کہ ہرشیت کی ٹوئٹ سے کانپور میں مسلم برادری میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور عوام نے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا اور ایف آئی آر درج کرائی۔ عوام کے شدید غم وغصے کو دیکھتے ہوئے کانپور پولیس نے ہرشیت کو حراست میں لے لیا اور گستاخانہ ٹوئٹس کو حذف کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
بھارت:توہین رسالت کمنٹ: اصل کہانی کیا ہے ؟
بھارت میں توہین رسالت کا واقعہ، پس منظر کیا ہے؟
پولیس کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق کسی کو مذہبی فسادات کو ہوا دینے یا سماجی ہم آہنگی کو تہہ و بالا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے کسی اقدام کے مرتکب شخص سے غیر جانبداری کے ساتھ اور سختی سے نمٹا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








