رشوت دیکر کراچی میں کوئی بھی ناجائز تجاوزات بنا سکتا ہے، حلیم عادل شیخ

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی کیلئے بجلی مزید مہنگی کرنا شرمناک عمل ہے، حلیم عادل شیخ
کراچی کیلئے بجلی مزید مہنگی کرنا شرمناک عمل ہے، حلیم عادل شیخ

کراچی:لیاری کوئلہ گودام کے قریب بلڈنگ گرنے کا واقعہ پر پی ٹی آئی مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ جائے وقوعہ پہنچے حلیم عادل شیخ نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے متاثرین سے ملاقات کر کے تفصیلات معلوم کیں اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دھانی کرائی۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کراچی میں جانائز تجاوزات بنائیں گئی ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہورہے ہیں۔ بغیر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ایس بی سی اے کی اجازت کے کوئی بلڈنگ نہیں بنائی جاتی۔

رشوت دیکر کراچی میں کوئی بھی ناجائز تجاوزات بنا سکتا ہے۔ 12 سالوں سے کراچی میں غیر قانونی تجاوزات کی جارہی ہیں کوئی روکنے والا نہیں.سندھ حکومت جعلی تعمیرات کرانے والوں کہ سرپرستی کر رہی ہے۔

غیر قانونی تعمیرات چائنا کٹنگ میں کوئی بھی افسر یا پارٹی ملوث ہو کارروائی کی جائے۔ نیب تحقیقات کرائے کس طرح ایس پی ایس سے نے ایسی عمارتیں بنانے دیں ہیں۔

حلیم عادل شیخ نے مزید کہاکہ میں شکر گذار ہوں صدر مملکت و گورنر سندھ کا جنہوں نے سیلاب متاثرین کا درد سمجھا اور امداد کی۔صدر مملکت و گورنر سندھ گزشتہ روز ہیلی کاپٹر سے اتر کر عوام میں گئے، امدادی سامان سیلاب متاثرین میں تقسیم کیا۔

امدادی سامان کی تقسیم گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے میں خود گراؤنڈ پر موجود ہوں۔ بلاول نے گزشتہ روز کہا راشن تقسیم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ بلاول کو معلوم نہیں غریب سیلاب متاثرین کے پاس دو وقت کی روٹی کی کتنی اہمیت ہے۔

بلاول اور سندھ حکومت کے وزراء ہفتے سے ہیلی کاپٹرز پر چل رہے ہیں۔ کسی بھی سیلاب متاثرہ خاندان کی مدد نہیں کی گئی ہے۔ بلاول سے کہوں گا راشن سے پیٹ بھرتا ہے بھاشن سے نہیں۔

بلاول کروڑوں روپے عوام کے خرچ کرکے سیلاب متاثرین میں صرف یہ کہنے جاتے ہیں کہ وفاق کچھ نہیں دے رہا۔ 

وفاق کے خلاف بھاشن دینے کے بجائے متاثرین کو راشن دیا جاتا تو متاثرین کی تکلیف کم ہوجاتی۔ بلاول سندھ حکومت کی نااہلی چھپانے کے لئے وفاق پر تنقید کر رہے ہیں۔ 18ویں ترمین کے بعد تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔

سیلاب متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ راشن بیگ گورنر پنجاب و گورنر سندھ کی جانب سے تقسیم کیے جارہے ہیں۔ ٹینٹ این ڈی ایم اے کی جانب سے دیئے جارہے ہیں۔

Related Posts