نوازشریف سے آج بھی پوچھ لیں کہ ان کا نظریہ کیا ہے تو وہ نہیں بتا سکتے، شہزاد اکبر

تازہ ترین

تازہ ترین

نوازشریف سے آج بھی پوچھ لیں کہ ان کا نظریہ کیا ہے تو وہ نہیں بتا سکتے، شہزاد اکبر
نوازشریف سے آج بھی پوچھ لیں کہ ان کا نظریہ کیا ہے تو وہ نہیں بتا سکتے، شہزاد اکبر

اسلام آباد:معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نوازشریف سے آج بھی پوچھ لیں کہ ان کا نظریہ کیا ہے تو وہ نہیں بتا سکتے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ 36 ن لیگی رہنماؤں سے 24 ارب کی زمینیں واپس لے لی گئی ہیں۔ زمین پر قابض رہنے والوں سے معاوضہ بھی وصول کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کہ نوازشریف کا نظریہ صرف پیسہ ہے اور لوٹنے والوں کی پشت پناہی کرنا ہے۔ چھانگا مانگا کی سیاست اور پیسے کی سیاست کو فروغ دیا اور سیاست میں خرید و فروخت کا سلسلہ شروع کیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان کے لیے مافیا کا لفظ استعمال کیا، نوازشریف سے آج بھی پوچھ لیں کہ ان کا نظریہ کیا ہے تو وہ نہیں بتا سکتے۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ صرف پنجاب میں گزشتہ دو برس کے دوران 210 ارب روپے سے زائد کی ریکوری ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھوکھربرادران پر 3 ایف آئی آرز ہیں اورانہوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کیا جس کی مالیت ڈیڑھ ارب روپے بنتی ہے، دوماہ پہلے 80 کنال 2 مرلے جگہ واپس لی گئی۔

خرم دستگیر سے 9 کروڑکی زمین واپس واپس لے کر پارک بنا دیا گیا ہے اور ان سے اب 5 کروڑ روپے لینا باقی ہیں، خواجہ آصف نے بھی سوسائٹی پر قبضہ کیا ہوا ہے، جس کے خلاف آج آپریشن ہونے جارہا ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ چودھری تنویرسے 7 ارب کی بے نامی پراپرٹی، دانیال عزیز کے والد سے (ڈھائی ارب روپے مالیت) کی 2400 کینال زمین واگزار کرائی گئی، جاوید لطیف نے میاں فلورملزمیں 8 کنال 2 مرلے جگہ شامل کی ہوئی تھی اور ایک اڈہ واپس لیا گیا۔

احسان اللہ باجوہ سے 664 کنال سرکاری زمین اور مظہر رشید سے 25 ایکڑ اوقاف کی زمین واپس لی گئی جس کی مالیت 7 کروڑ روپے بنتی ہے، میرہزارکھیترانی 36 ہزارکنال جگہ پر قابض ہیں، ان سے ایک ہزار کنال جگہ واپس لی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عابدشیرعلی سے 2 ارب مالیت کی سرکاری زمین، مائدہ حمید کے شوہر سے 10 کروڑ کی زمین اور اعجاز احمد سے 50 کروڑ کی زمین واگزارکرائی جارہی ہے۔ پی ڈی ایم کا مقصد تھا کہ اپنا سیلف ڈیفنس کریں۔وزیر اعظم نے واضح کردیا ہے کہ چوروں کو ان کے انجام تک پہنچائیں گے۔

Related Posts