رشوت کا کمال، ضلع وسطی میں بچت بازار بند نہ کروائے جاسکے

تازہ ترین

تازہ ترین

bachat market in Central District could not be closed

کراچی : ضلع وسطی میں انتظامیہ کی بچت بازاروں کے اجازت ناموں کی منسوخی محض ظاہری نکلی ، شہر کے وسیع ترین آبادی والے ضلع وسطی میں تا حال بچت بازار لگ رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی ڈاکٹر ایم بی راجہ دھاریجونے 6 اکتوبرکو ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ضلع بھرکے 19 بچت بازاروں کے اجازت نامے منسوخ کیے تھے ۔

ڈی سی سینٹرل کے مطابق کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد کے پیش نظر یہ حکم نامہ جاری کیا گیا تھا تاہم ضلع وسطی میں ضلعی انتظامیہ کے بعض بچت بازار کے معاملات دیکھنے والے افسران و کلرکوں کی سر پرستی میں 12 غیر قانونی بچت بازار بھی لگائے جاتے ہیں۔

اس طرح کل 31 بچت بازار ضلع وسطی میں مختلف مقامات پر لگائے جاتے ہیں۔ ان میں غیر قانونی 12 بچت بازاروں سے ضلعی انتظامیہ کے افسران جن میں سابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون اور ان کے چہیتے کلرک سمیت دیگر افسران کو ہر بچت بازار سے 25 ہزار روپے مبینہ بھتہ ملتا تھا۔

سابق ڈی سی اور سابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون بھی انہیںمعاملات میںمیڈیا کی خبروںکی زینت بنتے رہے جس کا نوٹس سندھ حکومت نے لے کر دونوں کو تبدیل کردیا تھاتاہم ماتحت عملے نے ان دونوں کے جانے کے بعد خود ہی سارا انتظام سنبھال لیا تھا۔

اب جب ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے بچت بازاروں کے اجازت نامے منسوخ کر دیے ہیں تو اس کے باوجود بھی بازار لگوا کر ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ افسران و کلرک نے ہفتہ وار بھتے میں اضافہ کر کے علاقے کی مرکزی سڑکوں  کے قریب لگنے والے بچت بازار بندکروائےا ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی میں ماسک نہ لگانے والوں کو 1 ہزار روپے جرمانہ ہوگا

اندرونی علاقوں میں اب بھی بچت بازار لگانے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ غیر قانونی بچت بازار بھی ضلعی انتظامیہ اور علاقہ پولیس کی مدد سے تا حال لگائے جا رہے ہیں۔

Related Posts