توہینِ مذہب کیس، میرے خلاف کچھ ملتا نہیں تو انتقامی کارروائی کی جاتی ہے۔عمران خان

تازہ ترین

تازہ ترین

توہینِ مذہب کیس، میرے خلاف کچھ ملتا نہیں تو انتقامی کارروائی کی جاتی ہے۔عمران خان
توہینِ مذہب کیس، میرے خلاف کچھ ملتا نہیں تو انتقامی کارروائی کی جاتی ہے۔عمران خان

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے توہینِ مذہب کیس سمیت دیگر مقدمات قائم کرنے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خلاف کچھ ملتا نہیں تو شہباز شریف حکومت انتقامی کارروائی پر اتر آتی ہے۔ آصف زرداری نے سندھ کو غلام بنایا جبکہ شریف خاندان کا کردار مافیا سے کم نہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ فرح خان کے خلاف کیس انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے۔ وہ بے قصور ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان کو صفائی کا موقع دیا جائے۔ حکومت کی انتقامی کارروائیوں سے لوگ مزید ان کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا ہوچکی ہے، وہ سزا سے بچنے کیلئے ملک سے بھاگ گئے۔ 

یہ بھی پڑھیں:

عمران خان کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ، سوشل میڈیا صارفین کی شہباز حکومت پر تنقید

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن پر سوالات ہوئے تو جواب آیا کہ ہم پاکستان کے شہری نہیں۔ ملک کا 3 بار وزیر اعظم رہنے والے کے بیٹے کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی نہیں۔ پانامہ پیپرز میں انکشافات کے علاوہ بھی ان کی چھپی ہوئی جائیدادیں ہیں۔ 40 سے 45 ارب کے 16 کیسز ہیں جن کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ ان کی وجہ سے ملک خسارے میں چلا گیا۔ ملک کا قرضہ 4گنا ہوگیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ شریف خاندان نے 30 سال تک ملک کو مسلسل لوٹا۔ آج پنجاب کا وزیر اعلیٰ اور ملک کا وزیر اعظم ضمانتوں پر ہیں۔ نیب سے پوچھتا ہوں کیا فرح خان کے خلاف کوئی کیس بنتا ہے؟ احسن اقبال کے بھائی کو خلافِ ضابطہ ٹینڈر دیا گیا۔ مقصود چپراسی کے نام پر اربوں روپے ملک سے باہر بھیجے گئے۔ انہوں نے افسران کے تبادلے کردئیے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے کیسز کا ریکارڈ خود لے لیا ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ لوگ ریکارڈ غائب کردیں گے۔ ہمارے دور میں نیب آزاد ادارہ تھا اور کیسز چل رہے تھے۔ جعلی ناموں پر یہاں سے پیسہ چوری کرکے بیرونِ ملک بھیجا گیا۔ جب ہمارے خلاف ان کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں ہے تو بتایا جائے کہ ایف آئی ار رجسٹر کیسے ہوسکتی ہے؟

Related Posts