عمران خان کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ، سوشل میڈیا صارفین کی شہباز حکومت پر تنقید

تازہ ترین

تازہ ترین

عمران خان کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ، سوشل میڈیا صارفین کی شہباز حکومت پر تنقید
عمران خان کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ، سوشل میڈیا صارفین کی شہباز حکومت پر تنقید

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہینِ مذہب و رسالت ﷺ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں 150 افراد نامزد ہیں جس پر سوشل میڈیا صارفین نے موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت پر کڑی تنقید کی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانے والا پاکستان کا واحد لیڈر سمجھا جاتا ہے جن کے خلاف مدینہ منورہ میں ہونے والے نعرے بازی کے ایک واقعے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقدمے کی تفتیش کے ساتھ ساتھ گرفتاریاں بھی شروع کردی گئیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ عمران خان سچ کہتے تھے، موجودہ حکومت امریکا نے مسلط کی۔ 

یہ بھی پڑھیں:

عمران خان اور سابق وزراء سمیت 150 افراد کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج

عمران خان کے  خلاف درج ایف آئی آر کے متعلق سوشل میڈیا صارف نادیہ طاہر کا کہنا ہے کہ کچھ روز پہلے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل اپنے آقاؤں کو یہ کہہ کر خوش تھے کہ عمران خان ایک مذہبی آدمی ہے اور آج وہ عوام میں انہیں اس کا الٹ ثابت کرنے پر تل گئے ہیں۔ توہینِ رسالت ﷺ پر مبنی مقدمہ درج کرادیا جس سے مذہبی انتہا پسندی کو ایندھن مہیا ہوگا۔ 

واضح رہے کہ عمران خان نے اقوامِ متحدہ میں کھڑے ہو کر اسلاموفوبیا کے خلاف بات کی جس کے بعد عالمی برادری میں بھی ایک نیا شعور جنم لینے لگا ۔ اسلاموفوبیا کی مذمت  پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کی جانب سے بھی کی گئی۔  ٹوئٹر صارفین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ہر دلعزیز اور باعزت لیڈر عمران خان پر درج کی گئی ایف آئی آر کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ 

نادیہ طاہر کا کہنا ہے کہ مئی کا آخری ہفتہ امریکی غلاموں کیلئے ڈیڈ لائن ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ عوام غم و غصے میں ہیں۔ اسی لیے کوشش کی جارہی ہے کہ ہراسگی پھیلا کر اور عمران خان پر جھوٹے مقدمات درج کرکے ہمارے حوصلوں کو پست کیا جائے، تاہم ہم امپورٹڈ حکومت کے خلاف مارچ کریں گے کیونکہ ہم اس کیلئے پر عزم ہیں۔ الیکشن کراؤ، پاکستان بچاؤ۔ 

Related Posts