اسلام آباد:ڈی جی پاسپورٹ آفس میں عرصہ نو ماہ سے ڈوپ کنسلیشن کے سولہ سو کیسز زیر التوا ہیں یہ کیسز پورے پاکستان سے جمع کرائے گئے ہیں، ڈوپ کنسلیشن کیسز وہ کیس ہیں جن میں جن لوگوں نے غیر قانونی طریقے سے دو شناختی کارڈ اور دو پاسپورٹ مختلف ناموں سے بنوا رکھے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام کیسز کی پالیسی 2004 سے لے کر 2021 تک بڑی واضح اور جامع ہے لیکن جان بوجھ کر ان کیسز کو التوا میں رکھا گیا ہے۔
ڈی جی پاسپورٹ آفس ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سارے کیسز کی منظوری دی جا چکی ہے،لیکن ڈی جی پاسپورٹ نے یہ کہہ کر انہیں روکا ہوا ہے کہ ان کیسز کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
جبکہ پالیسی کے مطابق ڈوپ کینسلیشن کیسز کے لئے جو پالیسی 2004 میں بنائی گئی تھی اسی پر عمل کرتے ہوئے 2020 نومبر تک کے تمام کیسز کو نمٹایا گیا ہے۔
نومبر 2020 سے لے کر جولائی 2021 تک 1600 کیسز کو التوا میں رکھا گیا ہے جبکہ تمام سائلین نے تمام کاغذات اور انکوائری اور متعلقہ دستاویزات لگا کر ڈی جی پاسپورٹ آفس میں اپنے کیسز جمع کرا رکھے ہیں۔
ڈی جی پاسپورٹ ان کیسز کی منظوری دینے کے بعد کیسز کو روکے ہوئے ہیں یہ تمام اوورسیز پاکستانی ہیں،جن کی وجہ سے ملک میں کروڑوں روپے کا زرمبادلہ آتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آبادپولیس نے زیادتی کیس میں غلط ملزم پکڑلیا، متاثرہ لڑکی کا پہنچانے سے انکار
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








