وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فارمنگ کو آپریٹو سوسائٹی ڈی 17 کے سابق صدرمحمد خان مبینہ طورپر افغانی نکلے جنہوں نے سوسائٹی میں کروڑوں کی کرپشن کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد خان نے بھاری رشوت دے کر پاکستانی دستاویزات اور جعلی شناختی کارڈ بنوایا۔ خود کو پاکستانی شہری ظاہر کرتے ہوئے انتظامی کمیٹی اور کو آپریٹو ڈپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے سوسائٹی کو کروڑوں روپے کے وسائل سے محروم کیا۔
دوسری جانب متعلقہ ریگولیٹر کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ نے سوسائٹی میں ہونے والی کرپشن کی انکوائری کی بجائے نئے الیکشن کا راستہ ہموار کیا جس میں الزامات کی زد سے بچنے کے لیے سابق صدر نے اپنے قریبی رشتہ دار کو سوسائٹی انتظامی کمیٹی کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ اپنی پوزیشن واضح کرتا، انتظامی کمیٹی کے خلاف کرپشن کی انکوائری کی جاتی اور ملوث کرداروں کے خلاف کارروائی کی جاتی لیکن کوآپریٹیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی جس کے باعث سوسائٹی کے سابق صدر نے موجودہ سرکل رجسٹرار کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔
اے جی ایم کی منظوری اور رجسٹرار کی منظوری کے بغیر انتظامی کمیٹی کے غیر قانونی اقدامات پر کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کی پراسرار خاموشی سابق صدر کے الزامات پر مہر ثبت کرنے کے مترادف ہے۔اس سے قبل سوسائٹی کی سابقہ انتظامی کمیٹی نےسوسائٹی کی زمین کو رواں برس 2008ء کے ریٹس میں فروخت کردیا۔
پرانے ریٹس پر فروخت سے سوسائٹی ممبران کو 20 کروڑ روپے سے محروم کیا گیا۔ 2008 میں خریدی گئی 64 کنال زمین کو جزوی طور پر بیچ کر سوسائٹی اکاؤنٹ میں 2 کروڑ 70 لاکھ روپے جمع کروائے گئے جبکہ اسی زمین کی موجودہ قیمت 20 کروڑ سے زائد ہے۔
بدعنونای کی اس واردات کی بنیاد سابق سیکرٹری خالد خان نیازی نے رکھی جس نے رجسٹرار کی منظوری کے بغیر زمین کا معاہدہ کیا جبکہ موجودہ انتظامی کمیٹی نے سالانہ اجلاس عام اور رجسٹرار کی منظوری کے بغیر زمین کو ٹھکانے لگاتے ہوئے 2 کروڑ 70 لاکھ روپے سوسائٹی اکاؤنٹ میں جمع کروائے۔
موجودہ انتظامی کمیٹی نے بقیہ رقم آپس میں تقسیم کر لی جبکہ 2008ء سے ہی سی 16 میں واقع سوسائٹی کے 4 پلاٹس کا مقدمہ چل رہا تھا جس کو لینڈ پروائیڈر صغیر حسین کے ساتھ ملی بھگت کر کے سردار محمد خان اور انتظامی کمیٹی نے سوسائٹی کو کروڑوں روپے مالیت کے پلاٹوں سے محروم کیا۔
اسی طرح سڑکوں کی تعمیر ایک غیر معروف کمپنی حذیفہ کنسٹرکشن کے ذریعے سوسائٹی اکاؤنٹ سے ساڑھے 3 کروڑ روپے نکالے گئے۔ انتظامی کمیٹی نے سالانہ اجلاس عام سمیت رجسٹرار منظوری کے بغیر ڈویلپمنٹ زمینوں کی فروخت سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات کے ذریعے سوسائٹی کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: مروہ کیس میں 2 مزید ملزمان گرفتار، قتل کے بعد زیادتی کا انکشاف
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








