کراچی میں گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے تاریخ رقم کردی، معزز عدالتِ عالیہ نے 28 روز کی سماعت مکمل کرتے ہوئے 62 لاپتہ افراد بازیاب کرائے اور ناقص تفتیش پر کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے۔
موت لاپتہ ہونے سے بڑا سانحہ ہے لیکن کوئی جاں بحق ہوجائے تو آہستہ آہستہ صبر آجاتا ہے۔دوسری جانب لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش عمر بھر جاری رہتی ہے۔ مائیں اپنے بیٹے بیٹیوں کی راہ تکتی رہتی ہیں اور بہن بھائی یا دیگر رشتہ دار لاپتہ افراد کا تاعمر انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔
جذبات کا تعلق کسی دلیل سے نہیں ہوتا۔ جب تک نظر سے اوجھل ہونے کے باوجود یہ یقین ہو کہ ہمارا بیٹا، بھائی، بیوی یا بہن زندہ ہے ، ہماری تلاش ختم نہیں ہوسکتی۔ لاپتہ لوگوں کے بارے میں یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ ہیں یا اِس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے، اِس لیے ہم ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جو ہمارا بنیادی حق ہے۔
آئیے عدالتِ عالیہ سندھ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد معاملے کے دیگر پہلوؤں پر بھی نظر ڈالتے ہیں تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ لاپتہ افراد کا معاملہ کتنا سنگین ہے اور جبری گمشدگیوں کے معاملے میں سندھ ہائی کورٹ نے کئی ڈی ایس پیز اور انسپکٹرز کو معطل کیوں کیا؟
عدالتِ عالیہ سندھ کی کارروائی
سب سے پہلے سندھ ہائی کورٹ کی کارروائی اپنے سامنے رکھتے ہیں۔ ہائی کورٹ میں جسٹس نذر اکبر اور جسٹس مبین لاکھو پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ گزشتہ روز تک سماعت کے 28 دن مکمل ہوئے جن کے دوران 62 لاپتہ افراد بازیاب کروائے گئے جو بلاشبہ ایک بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے۔
یہ لاپتہ ہونے والے افراد گزشتہ کئی ماہ سے اپنے اہلِ خانہ سے دور کسی نامعلوم مقام پر موجود تھے۔ جب یہ لوگ واپس آ کر اپنے رشتہ داروں سے ملے ، اس پر دونوں طرف کے رشتہ داروں نے مسرت کا اظہار کیا۔سندھ ہائی کورٹ نے جبری گمشدگیوں کی 162 درخواستیں مختلف ہدایات کے ساتھ نمٹائیں۔
اس موقعے پر عدالت نے متعدد پولیس اہلکار معطل کردئیے جن میں کئی ڈی ایس پیز اور انسپکٹرز شامل ہیں جن کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق رہنما ہدایات (ایس او پیز) پر عملدرآمد نہیں کیا۔ عدالت نے متعدد پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا بھی حکم صادر کیا۔
کارروائی کے حکم کی وجہ یہ تھی کہ عدالت کو یہ علم ہوا کہ انہوں نے اول تو ناقص تفتیش کی اور دوم عدالت سے غلط بیانی بھی کی۔ عدالت نے لاپتہ افراد بازیاب نہ ہونے پر حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کی طلبی کے نوٹسز بھی جاری کیے۔
وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری کا بیان
یہاں ہم 8 ماہ پیچھے چلتے ہیں جہاں 17 جنوری کو وفاقی وزیرِ انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایک اہم بیان دیا۔ وزارتِ انسانی حقوق کی طرف سے جبری گمشدگیاں روکنے پر قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا۔ قانون سازی کیلئے بل تیار کرکے وزارتِ انسانی حقوق کو بھیجا گیا۔
وزارتِ انسانی حقوق کے مجوزہ قانون کے تحت جبری گمشدگی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ ضابطۂ فوجداری یعنی کریمنل ایکٹ کے تحت درج ہوگا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت تعزیراتِ پاکستان میں ترامیم کر رہی ہے۔ اگر کوئی شخص جرم کرے گا تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے نہ کہ رات کے اندھیرے میں لے جایا جائے۔
وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ عدالت میں پیش کرنے یا باقاعدہ چارج لگانے کی بجائے لوگوں کو رات کے اندھیرے میں لے جایا جاتا ہے اور سالہا سال یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کہاں ہے۔
بڑھتی ہوئی جبری گمشدگیاں اور کمیشن کے اعدادوشمار
گزشتہ 4 سال سے جبری گمشدگیوں میں اضافہ نوٹ کیا جارہا ہے جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ برس جبری گمشدگیوں پر قانون سازی کی بات کی جو پاکستان کے کسی بھی وزیرِ اعظم کا پہلا مثبت اقدام ہے۔
حکومتِ پاکستان نے جبری گمشدگی کو ایک اہم معاملہ سمجھتے ہوئے اس پر ایک کمیشن بھی بنایا ہے جسے رواں برس 71 شکایات موصول ہوئیں۔ 48 شکایات پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔کمیشن کے مطابق گزشتہ برس 30 نومبر تک 5 ہزار 608 کیسز میں سے 3492 نمٹا دئیے گئے۔
عالمی سطح پر جبری گمشدگی بطور جرم
اقوامِ متحدہ نے بارہا جبری گمشدگی کو جرم اور انسانی عزت و ناموس کے خلاف قرار دیا، اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر جبری گمشدگی جنوبی ایشیاء کے ممالک بالخصوص پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور افغانستان میں جبری گمشدگی کو کوئی باقاعدہ جرم نہیں سمجھا جاتا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب جبری گمشدگی کوئی جرم ہے ہی نہیں تو اس کے خلاف کارروائی کیسے ہوسکتی ہے؟ جبری گمشدگی پر قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات ذاتی دشمنیوں پر بھی ایسی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا اِس معاملے پر صرف پاکستان کو ہی نہیں، بلکہ دیگر ممالک کو بھی بنیادی انسانی حقوق کا لحاظ رکھنا ہوگا۔
ساجد گوندل کے اغواء کا نوٹس اور بازیابی
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال جبری گمشدگیوں کے انکوائری کمیشن کے بھی چیئرمین ہیں جنہوں نے رواں ماہ ہی ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کے اغواء کا نوٹس لیا اور اس پر کارروائی کی ہدایت کی۔
سربراہ گمشدگی کمیشن نے آئی جی اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ سے ساجد گوندل نامی پاکستانی شہری کے اغواء کے واقعے کی رپورٹ طلب کی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے ہی ساجد گوندل کی بازیابی کا حکم دے دیا تھا۔
واضح رہے کہ ساجد گوندل کو 6 روز قبل راولپنڈی اسلام آباد کے علاقے روات کے قریب سے بازیاب کرایا گیا۔ لاپتہ ساجد گوندل کے اہلِ خانہ نے خود پولیس کو اطلاع دی تھی کہ انہیں روات کے قریب چھوڑ دیا گیا۔
بنیادی انسانی حقوق اور جبری گمشدگی کی موجودہ صورتحال
پاکستان اقوامِ متحدہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے ادارے کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر کا پابند ہے جن کے تحت کسی بھی شخص کو جبری طورپر لاپتہ نہیں کیاجاسکتا۔
آج بھی لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ ان کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھائے ان کی واپسی کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔ حکومتِ وقت کو چاہئے کہ جبری گمشدگی کے خلاف قانون کو عملی طور پر نافذ کرے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔