برطانوی عدالت کا اہم فیصلہ، بانئ متحدہ کے زیرِ انتظام 6 ٹرسٹ کے اثاثے منجمد

تازہ ترین

تازہ ترین

برطانوی عدالت کا اہم فیصلہ، بانئ متحدہ کے زیرِ انتظام 6 ٹرسٹ کے اثاثے منجمد
برطانوی عدالت کا اہم فیصلہ، بانئ متحدہ کے زیرِ انتظام 6 ٹرسٹ کے اثاثے منجمد

لندن: برطانیہ کی عدالت نے بانئ متحدہ کے زیرِ انتظام چلائے جانے والے 6 ٹرسٹس کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے دیا ہے جس پر فوری طور پر کارروائی کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی ڈپٹی ہائی کورٹ جج پیٹر ناکس نے 3 ارب سے زائد مالیت کے بانئ متحدہ کے زیر انتظام 6 ٹرسٹس کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا۔ منجمد جائیدادوں میں ای بے ویو ہاؤس، وائٹ چرچ لین فرسٹ ہاؤس، ہائی ویو گارڈنز فرسٹ ہاؤس، ہائی ویو گارڈنز سیکنڈ ہاؤس، بروک فیلڈ ایونیو ہاؤس، ایم کیو ایم کا فرسٹ فلور الزبت ہاؤس اور وائٹ چرچ لین سیکنڈ ہاؤس شامل ہیں۔

برطانوی عدالت نے حکم دیا کہ بانئ متحدہ، ایم کیو ایم رہنما اور کارکنان مذکورہ جائیدادوں میں اس وقت تک رہائش رکھ سکتے ہیں جب تک کہ مقدمے کا فیصلہ نہ ہوجائے تاہم ا س دوران مذکورہ جائیدادیں فروخت یا کسی کے نام منتقل نہیں کی جاسکیں گی۔ دوسری جانب ایم کیو ایم لندن کا کہنا ہے کہ ٹرسٹ کی جائیدادیں متحدہ کی ملکیت ہیں جنہیں منجمد کرنا ناانصافی ہوگی۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل  متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین پر مبینہ طور پر ٹیکس چوری کا الزام کا فیصلہ سامنے آیا  جس کے تحت برطانوی حکومت نے انہیں 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق بانئ متحدہ پر الزام ہے کہ گزشتہ 20 برس سے زائد عرصے میں انہوں نے 2 لاکھ پاؤنڈز سے زائد ٹیکس ادا نہیں کیا جس پربرطانیہ کے تفتیشی ادارے مزید تحقیق میں مصروف رہے  جبکہ جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ گزشتہ ماہ کیا گیا۔ 

مزید پڑھیں: ٹیکس چوری کا الزام، بانئ متحدہ پر 20 لاکھ پاؤنڈز کا جرمانہ عائد

Related Posts