لاہور: پنجاب اسمبلی میں موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پرویز الٰہی کے مابین وزارتِ اعلیٰ کیلئے فیصلہ آج ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں 20 میں سے 15 نشستیں اپنے نام کرنے والی پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویز الٰہی اور ن لیگی وزیر اعلیٰ کے مابین مقابلہ آج ہوگا۔
وفاق سے لے کر صوبائی اسمبلی تک کامیابی کے دعوے جاری ہیں۔ آج سہ پہر 4 بجے ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مہمانوں کو داخلے کی اجازت نہیں۔اراکینِ اسمبلی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
تازہ ترین صورتحال
وزیر اعلیٰ پنجاب کے چناؤ کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئیں، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور ق لیگ سمیت اراکین ہوٹل سے پنجاب اسمبلی پہنچ گئے۔ سابق وفاق وزیر مونس الہی کہتے ہیں ان کے نمبرز پورے ہیں، اس سے بھی زیادہ ہوں گے۔
میڈیا نمائندگان کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی کوریج پریس گیلری سے کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ موبائل فون لے جانا ممنوع قرار دے دیا گیا۔ پنجاب اسمبلی میں 19 نو منتخب اراکینِ اسمبلی حلف اٹھا چکے ہیں۔
ق لیگ اور پی ٹی آئی کے اراکین 4 بسوں کے ذریعے قافلے کی صورت میں نجی ہوٹل سے پنجاب اسمبلی پہنچ گئے۔ وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار پرویز الٰہی اور سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی اسمبلی پہنچ گئے۔
مسلم لیگ (ن) کے اراکین کو اسمبلی لے جانے کیلئے 4بسوں کا انتظام کیا گیا جو ہوٹل کے باہر پہنچ گئیں۔ 3 بج کر 30 منٹ پر ن لیگی اراکین صوبائی اسمبلی میں ہونے والے الیکشن کیلئے ایوان روانہ ہوں گے۔
ووٹنگ کے عمل میں تحریکِ انصاف کے 15، ن لیگ کے 3 جبکہ ایک آزاد امیدوار حصہ لیں گے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ق لیگ ار تحریکِ انصاف کے 186اراکین کی حمایت رکھتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا بیان
اس سے قبل سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا اپنے حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ لاہور کے مقامی ہوٹل میں ق لیگ و پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں 186 اراکین شریک ہوئے تھے۔
دوسری جانب وزیر داخلہ پنجاب نے کہا کہ ہمارے اراکین کی تعداد 180 کے قریب ہے۔ قبل ازیں تحریکِ انصاف کی ضمنی انتخابات میں جیت کے بعد پی ٹی آئی کے پنجاب میں 178 جبکہ ق لیگ کے 10 اراکین موجود ہیں۔
ضمنی انتخاب اور پارٹی پوزیشن
آج سے 5روز قبل ہونے والے ضمنی انتخابات نے پنجاب میں سیاسی صورتحال کا پانسہ پلٹ دیا۔ پی ٹی آئی کے 178 جبکہ ق لیگ کے 10 اراکین کا اتحاد 188ووٹوں کے ساتھ ناقابلِ شکست نظر آتا ہے۔
دوسری جانب ضمنی انتخابات میں صرف 4نشستوں پر کامیابی سمیٹنے والی ن لیگ کے اراکین 168 ہیں جس سے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے درکار حمایت کم ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے 7، آزاد 3 جبکہ راہِ حق پارٹی کے 1 ووٹ کے ساتھ بھی پوزیشن کمزور ہے۔
حکومتی اتحاد کے اراکین کی کل تعداد 179 ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے حکومت کو سادہ اکثریت کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے یکم جولائی کو وزیر اعلیٰ کا انتخاب 22جولائی کو کرانے کا حکم دیا تھا۔