کن کن بیماریوں میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے متعلق کیا احکامات ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سوال

میری بہن کی طبیعت خراب ہے، گردوں میں تکلیف ہے اور شوگر بھی  زیادہ رہتی ہے، پچھلے رمضان کے قضاء روزے بھی وہ اس طرح رکھتی ہے کہ ہفتہ میں ایک روزہ  یا دوہفتوں میں ایک روزہ رکھ لیا ،اب ڈاکٹر نے اس سے بھی منع کیا ہے ،دوہفتوں میں روزہ رکھنے پر طبیعت خراب ہوتی ہے ،اب پچھلے رمضان کے 14 روزے باقی ہیں اور آگے رمضان آرہاہے ۔

1۔اب سوال یہ ہے  کہ جو پچھلے  رمضان کے 14 روزے باقی ہیں ،ان کا کیا حکم ہے ؟اور اگر فدیہ دیدے  تو اس کا کیا حکم ہے ؟

2۔آگے جو رمضان آرہا ہے اس کے روزوں کا کیا حکم ہے ؟

 جس طرح پچھلے سال کے روزے رکھے تھے کہ دوہفتوں میں ایک روزہ رکھ لیا ،اگر اس رمضان کے بعد روزے رکھنا شروع کیا تو کیا پھر وہ پچھلے سال کے جو 14 روزے ہیں اس کا کیا حکم ہوگا ؟کیونکہ بعد میں بھی وہ روزانہ قضاء روزے  نہیں رکھ سکتیں ۔شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب

صورتِ مسئولہ  میں سائل کی بہن  کے لیے اگر مذکورہ بیماریوں  کی وجہ روزہ رکھنا بہت مشکل ہے  یا بیماری بڑھ جانے یا کسی تکلیف میں مبتلا ہونے کا غالب گمان ہے تو ان کے لیے   فی الحال روزہ  نہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن جب تک صحت کی توقع ہو  فدیہ دینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ  صحت کے بعد قضا لازم ہوگی ۔ یعنی  اگر وہ لگاتار روزے نہیں رکھ سکتیں، وقفے وقفے سے رکھ سکتی ہیں تو وقفے سے روزے رکھیں، اور جو روزے چھوٹ جائیں ان کی قضا پورے سال میں متفرق طور پر کرتی رہیں۔یہی حکم پچھلے سال کےرمضان کے  قضا روزوں کا بھی ہے کہ رمضان کے بعد حسب سہولت وقفہ وقفہ سے قضا کرلیں ۔

  اور اگر  روزہ رکھنے کی  بالکل طاقت  نہیں ہے  اور آئندہ تاحیات صحت یابی کی امید بھی نہیں ہے،  تو ایسی حالت میں زندگی میں روزہ کا فدیہ  دینا درست ہوگا، ہر روزہ کے بدلے پونے دو کلو  گندم یا اس کی قیمت کسی مستحق شخص کو دیدی جائے۔ جواب از مدرسہ نیو ٹاون۔

Related Posts