کراچی:ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما و سینیٹر فیصل سبزواری نے سندھ میں لگائے جانے والے لاک ڈان پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ 8 دن لاک ڈاؤن کرکے کورونا وائرس کو روکا کیسے جائے گا؟
سینیٹر فیصل سبزواری نے ایم کیوایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آباد پر پریس کانفرنس کی جہاں اراکین صوبائی اسمبلی و اراکین رابطہ کمیٹی بھی موجود تھے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل سبزواری نے کہا کہ بین الاقوامی پروازوں سے 40 مسافر کراچی آئے جن میں ڈیلٹا ویرینٹ پایا گیا، وہ ایئرپورٹ سے چلے گئے اور سندھ حکومت کو نہیں پتا کہاں گئے۔
فیصل سبزواری نے کہا کہ دنیا بھر میں اور ہمارے ملک میں کورونا وائرس پھیل رہا ہے، ہم کورونا وائرس کی سنگینی سے بھی آگاہ ہیں، جہاں 2020 میں لاک ڈان کا اعلان کیا تو ہم نے ریلیف کا کام شروع کیا اور ہم نے کروڑوں روپے کا سامان لاک ڈاؤن میں سفید پوش لوگوں تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ اس مرض سے بچا ؤکا طریقہ ویکسین لگانا ہے، کراچی اور حیدرآباد میں ویکسینیشن ہم کروا رہے ہیں، بدقسمتی سے سندھ حکومت شہری علاقوں کے حوالے سے بے حس ہے لیکن ہم شہری سندھ کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
فیصل سبزواری نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت نے اپیل کی تو ہم نے ساتھ دیا، سیاست نہیں کی، گزشتہ روز میٹنگ کی تفصیلات سامنے آئیں، اس میں ابتر صورتحال سے آگاہ کیا۔
رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ جتنی ویکسین لگی وہ سب وفاقی حکومت نے دی، سندھ حکومت کا اربوں کا صحت کا بجٹ ہے، بتایا جائے کتنی ویکسینیشن حاصل کی؟ مقامی ٹورازم عروج پر ہے، اس پر کیا کیا؟
سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کو چاند رات سمجھ لیا ہے، کورونا وائرس کے جعلی سرٹیفیکیٹس بن رہے ہیں، ویکسین کو رکھنے کا معیار ہے جس کا خیال نہیں رکھا گیا۔
فیصل سبزواری نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کو خدارا دھندا نہ بنایا جائے، یہ انوکھے فیصلے ہیں جو کیے جارہے ہیں، چھوٹا تاجر روز کھانے کمانے والا ہے، اس کے لیے کیا اقدامات کیے؟ ٹھٹھہ اور سیہون میں کون سا لاک ڈاؤن ہے؟
انہوں نے سوال کیا کہ ایکسپو سینٹر میں کورونا وائرس سے بچا ؤہورہا ہے یا پھیلایا جارہا ہے؟ کتنے لوگوں کے پاس شناختی کارڈز نہیں، ان کا کیا ہوگا؟
مزید پڑھیں: ججز کی اہلیت پر فواد چوہدری کے ریمارکس کی شدید مذمت کرتا ہوں،ناصر حسین شاہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








