راولپنڈی: سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان پر حملے کے بعد کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایران سے خراب تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں؟
تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں سائفر مقدمے کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان پر ایرانی حملے کی مذمت کرتا ہوں، لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ معاملات اس نہج تک کیسے پہنچ گئے؟
گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا کہ بطور وزیر اعظم میں نے خود ایران کا دورہ کیا اور وہاں ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کی۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ پاک ایران تعلقات خراب ہوں، آج وہ خوش ہو گئے ہیں۔کیا خراب تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں؟
سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پی ٹی آئی دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک ایران کشیدگی میں اضافہ کرنے کی بجائے صورتحال ڈی فیوز کرنا ہوگی۔ ہم نے اپنے دورِ حکمرانی میں پڑوسی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
عمران خان نے کہا کہ بلاول وزیر خارجہ بنے تو ایک بار بھی افغانستان نہیں گئے جبکہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان جا کر مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ دہشت گردی افغانستان کے تعاون کے بغیر ختم نہیں کی جاسکتی۔ آج افغانستان بارڈر بند کرنے پر غور کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








