کراچی سیاست دانوں کیلئے میدانِ جنگ بن گیا، ایم کیو ایم (پاکستان) کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کردیا جبکہ کراچی، میر پور خاص اور حیدر آباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے گزشتہ روز ایک کارکن کی مبینہ شہادت اور دیگر کارکنان کو لاٹھی چارج اور شیلنگ سے زخمی کرنے پر یومِ سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا۔
وزیر اعظم کا سمندر پار پاکستانیوں کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کا فیصلہ
متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ہم کارکن کی شہادت کے بعد یومِ سیاہ کو سوگ کے طور پر منائیں گے۔ پی پی پی الٹی گنتی گننا شروع کردے۔ پر امن احتجاج کرنے والے شہری کو شہید کیا گیا، سندھ پولیس اس کی ذمہ دار ہے، سید مراد علی شاہ پر مقدمہ درج کروا کر رہیں گے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم (پاکستان) کے کارکنان پر پولیس کے تشدد اور لاٹھی چارج کے خلاف حیدر آباد اور میر پور خاص سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ حیدر آباد کے چوراہوں پر احتجاج ہوا۔ لطیف آباد نمبر 11، 12، کوہ نور چوک، تلک چاڑی اور لبرٹی سمیت دیگر علاقوں میں ٹائر جلا کر احتجاج کیا گیا۔
مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم کے کارکنان جھنڈ اور ریلیوں کی صورت میں برآمد ہوئے۔ اس موقعے پر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف بھی نعرے بازی ہوئی۔ میر پور خاص میں بھی ٹائر جلا کر زخمی ہونے والے ایم کیو ایم کارکنان سے یکجہتی کا اظہار اور احتجاج ہوا۔
سندھ حکومت نے مختلف علاقوں میں رینجرز تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کا گشت بھی بڑھا دیا۔ گزشتہ روز ایم کیو ایم نے وزیرا علیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی۔ ایک کارکن جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوئے، جس پر آج یومِ سوگ منایا جارہا ہے۔ احتجاج جاری رہے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








