پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے جس کے دوران پاک برطانیہ تعلقات پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران چیف آرگنائزر مسلم لیگ (ن) مریم نواز اور پارٹی صدر شہباز شریف بھی موجود تھے۔ نوازشریف اور برطانوی ہائی کمشنر کے مابین باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxODU0MzksInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE4NTQzOSAtINi52YXYsdin2YYg2K7Yp9mGINio25Ig2q/Zhtin24Eg24HbjNq6INiq2Ygg2KfZhtqp2Ygg2KzbjNmEINmF24zauiDZhtuB24zauiDbgdmI2YbYpyDahtin24HYptuS25TYqNmE2KfZiNmEIiwidXJsIjoiIiwiaW1hZ2VfaWQiOjEyMDkwNiwiaW1hZ2VfdXJsIjoiaHR0cHM6Ly9tbW5ld3MudHYvdXJkdS93cC1jb250ZW50L3VwbG9hZHMvMjAyMi8wNS9iaWlsYXdhbC0zMDB4MjUwLmpwZyIsInRpdGxlIjoi2LnZhdix2KfZhiDYrtin2YYg2KjbkiDar9mG2KfbgSDbgduM2rog2KrZiCDYp9mG2qnZiCDYrNuM2YQg2YXbjNq6INmG24HbjNq6INuB2YjZhtinINqG2Kfbgdim25LblNio2YTYp9mI2YQiLCJzdW1tYXJ5Ijoi2obbjNim2LHZhduM2YYg2b7bjCDZvtuMINm+24wg2KjZhNin2YjZhCDYqNq+2bnZiCDYstix2K/Yp9ix24wg2YbbkiDaqduB2Kcg24HbkiDaqduBINin2q/YsSDYudmF2LHYp9mGINiu2KfZhiDYqNuSINqv2YbYp9uBINuB24zauiDYqtmIINin2YYg2qnZiCDYrNuM2YQg2YXbjNq6INmG24HbjNq6INuB2YjZhtinINqG2Kfbgdim25LblFxuIiwidGVtcGxhdGUiOiJzcG90bGlnaHQifQ==”]
اس دوران گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین مضبوط تعلقات ہیں جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں جبکہ برطانیہ میں پاکستانی شہری دوطرفہ تعلقات مضبوط بنا رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری اور تجارت سمیت دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔ اس دوران برطانوی ہائی کمشنر نے دیگر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر آگہی دی۔
جین میریٹ کا کہنا تھا کہ 8فروری کو اجتماعیت پر مبنی انتخابات پاکستان کے مستقبل کیلئے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے مختلف مقدمات سے بریت پر قائد ن لیگ نواز شریف کو مبارکباد بھی دی۔
خیال رہے کہ نیب نے شریف فیملی کے خلاف شریف ٹرسٹ کیس کی تفتیش بند کردی ہے۔ نیب اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری کو نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں فیصلہ ہوا جس کے بعد انوسٹی گیشن کو بند کردیا گیا۔
نیب نے تفتیش کی منظوری 31مارچ 2000 کو دی۔ شریف فیملی پر خفیہ طور پر کروڑوں روپے کی وصولی، ٹرسٹ کے کھاتوں کا آڈٹ نہ کرانے، کرپشن اور خرد برد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








