علی زیدی تو کیا عمران خان کو بھی جوابدہ نہیں ہوں، مراد علی شاہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Chief Minister Sindh criticised the centre

کراچی :وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آ ئین پاکستان کے مطابق وہ نہ وزیراعظم کو جواب دہ ہیں نہ ہی وفاق کے کسی اورعہدیدار کو وہ صرف سندھ کے عوام کی نمائندہ سندھ اسمبلی کو جواب دہ ہیں۔

وفاقی وزیر علی زیدی کے حوالے سے خط کا معاملہ ایک خالص دفتری یا کونفیڈنشل معاملہ ہے اس لیے وہ اس پر عوام یا میڈیا کے سامنے کوئی بات نہیں کریں گے۔

یہ بات انہوں نے ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس میں بائیو فارماسیوٹیکل مینو فیکچر نگ فیسیلٹی کا رسمی افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی ، سیکریٹری صحت سندھ کاظم جتوئی ، وائس چانسلر ز پروفیسر کرتا ر ڈاوانی،پرفیسر زرناز واحد اور دیگر اساتذہ اور انتظامی افسران بھی موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بائیو فارما سیوٹیکل مینو فیکچرنگ فیسیلٹی اور ڈاو انسٹیوٹ آف لائف سائنس کا افتتاح کر دیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہا کہ مالیاتی گرانٹس کی جو بھی تجاویز ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے دی ہیں جیسے بھی ہو سکا گرانٹ فراہم کریں گے تاکہ ڈاؤ یونیورسٹی جو تر قی یافتہ ممالک کے طبی تعلیمی اداروں کی طرز پر خدمات انجام دے رہی ہے وہ مالی مشکلات کی وجہ سے رک نہ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہاکہ کووڈ پینڈمک جیسے ہی حملہ آ ور ہو ا تو ہمارے صوبے میں ہمیں ڈاؤ ہی ایسا ادارہ نظر آ یا جو اس کے خلاف بہتر انداز میں لڑ سکتا تھا بس اس نے ایسا ہی کیا حکومت سندھ کی توقعات پر پورا اترا انہوں نے کہاکہ میں اپنا کووڈ ٹیسٹ ڈاؤ یونیورسٹی سے بی کراتا رہا ہوں مجھے کم از کم پانچ گھنٹے میں رزلٹ ملا ہے جبکہ لندن و دیگر ملکوں میں چوبیس گھنٹے سے زائد وقت لگا۔

انہوں نے کہاکہ کروڑوں روپے مالیت کی ادویہ بیرون ملک سے خریدنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی دوا خود بنائیں۔

انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ آور آپ کی ٹیم قابل تحسین ہیں جنہوں نے کافی تعداد میں جان بچانے والی ادویات ڈاؤ یونیورسٹی میں تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے لائف سیونگ لیب کے مختلف یونٹس کادورہ کیا۔ قبل ازیں وائس چانسلر ڈاؤ یونیور سٹی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی سانپ اور کتے کے کاٹے کی ویکسین بنانے کا لائسنس حاصل کرچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاؤیونیورسٹی کی بائیو فارما سیوٹیکل مینو فیکچرنگ فیسیلٹی مختلف اقسام کی جان بچانے والی ویکسین تیار کی جاسکتی ہیں جبکہ ڈاؤ یونیورسٹی کو خون کے اجزا سے دوائیں بنانےکا لائسنس بھی مل چکا ہے۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال اور ریسرچ سینٹر پہنچ گئے ، وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پر وفیسر محمد سعید قریشی، سیکریٹری صحت سندھ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں:نیب نااہل اور نالائق وفاقی حکومت کا آلہ کار بنا ہوا ہے ، سعید غنی

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت عوام کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ اسی لیے ڈاو یونیورسٹی کے ادویہ تیاری منصوبوں میں مکمل تعاون کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے پر حکومت سندھ کی بھرپور توجہ ہے جس سے آنے والی نسلوں کو فائدہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے نیپا اسپتال کے ایچ ڈی وارڈ سمیت مختلف حصوں کا دورہ کیا اور مریضوں سے بھی بات چیت کی اورخیریت دریافت کی پروفیسر سعید قریشی نے وزیر اعلی مراد علی شاہ کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

Related Posts