اورنگی اور گجر نالے پر تجاوزات کیخلاف آپریشن، متاثرین دربدر، کوئی داد رسی کو نہ پہنچا

تازہ ترین

تازہ ترین

اورنگی اور گجر نالے پر تجاوزات کیخلاف آپریشن، متاثرین دربدر، کوئی داد رسی کو نہ پہنچا
اورنگی اور گجر نالے پر تجاوزات کیخلاف آپریشن، متاثرین دربدر، کوئی داد رسی کو نہ پہنچا

کراچی: اورنگی اور گجر نالے پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران پختہ رہائشی عمارتیں گرانے کا کام جاری ہے مگر متاثرین تاحال معاوضے کے چیک سے محروم ہیں جس کے باعث متاثرین میں شدید اشتعال پیدا ہوگیا ہے۔

مگر دوسری جانب سندھ حکومت نے تا حال متاثرین کے لئے چیک تیار نہیں کیے، متاثرین اپنے مکانات ٹوٹنے کے بعدبے گھر ہوگئے، کسی کا سامان سڑک پر پڑ اہے تو کسی کا گلی محلے میں موجود ہے، بغیر تیاری انہدامی کارروائی کے باعث متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لوگ اپنے خاندانوں سمیت در بدر ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح اور سخت احکامات کے بعد سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے متاثرین کو سر چھپانے کے لیے کرائے کی مد میں فراہم کرنے والے 90 ہزار روپے کے چیک تیار کیے بغیر ہی پختہ رہائشی عمارتیں گرانا شروع کردیں۔

متاثرین نے اورنگی ٹاؤن اور گجر نالے پر احتجاج بھی کیا تاہم ان کی ایک نہ سنی گئی، بلکہ بعض احتجاج کرنے والوں کو پولیس نے اٹھا کر بند بھی کر دیا، جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا، تاہم انہیں مقررہ معاوضہ تا حال ادا نہیں کیا گیا۔

گجر نالہ لیاقت آباد نمبر 4 کے متاثرہ بزرگ شہری سعید نے بتایا کہ ہم یہاں 35 سال سے رہ رہے تھے اور ہمارے مکان لیز تھے،مگر انتظامیہ نے مسمار کردیے اور اب تک ہمیں معاوضے کے چیک نہیں ملے، میں اپنے خاندان کے ساتھ در بدر ہوں، پیسے ہوں تو کہیں کرائے پر لوں کیوں کہ میرے پاس کرائے کے مکان کا ایڈوانس دینے کیلیے رقم نہیں۔

گجر نالہ ناظم آباد مجاہد کالونی کے رہائشی نوجوان جبران نے بتایا کہ ہمارے مکانات مسمار کردیے مگر ہمیں معاوضے کا چیک نہیں ملا، ہم غریب لوگ ہیں، اتنی مہنگائی کردی ہے آٹا، دال چاول، تیل، گھی کے مسائل سے باہر نہیں نکل سکتے تو ہمارے پاس پیسہ کہاں سے آئے گاجو پلاٹ خرید سکیں۔

جبران کی والدہ نے کہا کہ سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہم سے لیز جگہ لی جا رہی ہے تو ہمیں پلاٹ دیں، سپریم کورٹ اس حوالے سے نوٹس لے اور سندھ حکومت کو پابند کرے کہ وہ متاثرین کو پلاٹ دیں۔

لیاقت آباد نمبر 4 گجر نالہ کے محمد سعید نے کہا کہ ڈھائی مہینے قبل ہمیں کہا گیا تھا کہ گھر خالی کرنا ہے۔ پھر درمیان میں کوئی نہیں آیا، آج پیر کے روز اچانک دن میں آکر کہا گیا کہ گھر خالی کر دو، میرے گھر کے 6 افراد ہیں، 3 منزلہ آر سی سی مکان ہے،لیز ہے،مجھ سے کہا جارہا ہے کہ جلد ی مکان خالی کرو۔میں کہاں جاؤں؟

انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا، اور 90 ہزار روپے سے ہوتا کیا ہے،اسسٹنٹ کمشنر لیاقت آباد زین العابدین چنہ نے بتایا کہ حکومت سندھ متاثرین کو 2 سال کا کرایہ ادا کر رہی ہے جو 90 ہزار روپے تخمینہ لگایا گیا ہے، اور اس حوالے سے حکومت کا کام جاری ہے جیسے جیسے چیک تیار ہوتے جا رہے ہیں ضلعی انتظامیہ متاثرین کو چیک ادا کرتی جا رہی ہے۔

Related Posts