وزیرِ اعظم عمران خان کابینہ کی کارکردگی سے ناخوش، وزراء کو جھاڑ پلا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

ذاتی مفادات پر مبنی تحریکیں کامیاب نہیں ہوسکتیں، وزیر اعظم عمران خان
ذاتی مفادات پر مبنی تحریکیں کامیاب نہیں ہوسکتیں، وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیرِ اعظم وفاقی کابینہ کی کارکردگی سے ناخوش نظر آتے ہیں جبکہ عمران خان نے ناراض ہو کر 2 وفاقی وزراء کو ڈانٹ دیا۔

تفصیلات کے مطابق اقتدار کے ایوانوں میں وزیرِ اعظم عمران خان کا اپنے دورِ حکومت میں کرپشن ختم کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران وزراء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر کچھ نہیں ہوتا تو مجھے اکیلا چھوڑ دو۔

پریشانی کے عالم میں اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے ڈاکٹر عشرت العباد اور شفقت محمود کو بھی جھاڑ پلا دی۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ اب بہت ہوچکا ہے۔ اگر ٹھیک کرسکتے ہیں تو کیجئے، بصورتِ دیگر وفاقی حکومت گھر جاسکتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ میں نے اپنی 24 سالہ محنت اور جدوجہد آپ لوگوں کیلئے داؤ پر لگا دی لیکن کارکردگی کیا ہے؟

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ آپ سب کی کارکردگی صفر ہے۔ میں تمام الزامات اپنے سر لے رہا ہوں لیکن آپ نے ابھی تک کیا ڈلیور کیا؟ ہم جہاں سے چلے تھے، وہیں کھڑے ہیں۔ میں خود 22 گھنٹے روزانہ کام کرتا ہوں لیکن اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ میں تھک چکا ہوں۔ اگرمیرا ساتھ نہیں دے سکتے تو مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومتی وزراء اب وزیرِ اعظم کا ساتھ نہیں دے رہے۔ وزیرِ اعظم جو کام کرتے ہیں، وزراء اس کا دفاع نہیں کرتے۔ ڈاکٹر عشرت العباد اور شفقت محمود سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ 28 ماہ سے کیا ہورہا ہے؟ ابھی تک جو اصلاحات کرنی تھیں، وہ نہیں کرسکے۔ ابھی تک جو کرنا چاہئے تھا، وہ سب نہیں ہوا۔ مجھے رزلٹ نہیں دے سکتے تو بے شک چھوڑ کر چلے جائیں۔

اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ این جی پی میں 200 ارب کی کرپشن ہوئی، اے جی پی آر نے بھی رپورٹ کیا۔ وزیرِ اعظم نے انکوائری کا بھی حکم جاری کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوچکے ہیں، اِس صورتحال سے وزیرِ اعظم عمران خان پریشان نظر آتے ہیں۔ 

 یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو اہم مشن سونپ دیا

Related Posts