فارن فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرادیا

تازہ ترین

تازہ ترین

پی ٹی آئی نے 5 سال میں 320 ملین روپے کے فنڈز چھپائے،فارن فنڈنگ کیس میں انکشاف
پی ٹی آئی نے 5 سال میں 320 ملین روپے کے فنڈز چھپائے،فارن فنڈنگ کیس میں انکشاف

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی فارن فنڈنگ کیس میں جواب الیکشن کمیشن جمع کرادیا ہے۔

جواب میں پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف صرف اسی فنڈنگ کو تسلیم کرتی ہے جو پالیسی کے مطابق رسیدوں کے ہمراہ بھیجی گئی۔

الیکشن کمیشن جمع کرائے جواب میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی فنڈز کے لیے ملک سے باہر پاکستانیوں کو ایجنٹس مقرر کرتی ہے اور ایجنٹس کو واضح ہدایت کی گئی تھی کہ صرف غیر ممنوعہ ذرائع سے ہی فنڈز جمع کیے جائیں۔

ایجنٹس نے بیان حلفی بھی جمع کرایا کہ پی ٹی آئی فنڈ پالیسی کے مطابق اکٹھا کیا گیا۔ پاکستانی نژاد افراد سے اکٹھے کیے گئے فنڈز بینک کے ذریعے بھیجے گئے۔پی ٹی آئی پارٹی پالیسی کے خلاف جمع شدہ اور پاکستان بھیجے گئے فنڈز کے معاملے میں جوابدہ نہیں ہے۔

تحریک انصاف کے بانی رکن اور پارٹی میں اہم عہدوں پر تعینات رہنے والے اکبر ایس بابر نے 2014 میں الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ پی ٹی آئی نے 2007 سے 2012 تک جو فنڈ بیرونِ ملک سے اکھٹا کیا ہے، اس کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائی گئی ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق فنڈنگ چھپاکر تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں کے لیے موجود قانون ’پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002‘ کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے پارٹی چیئرمین عمران خان اور دیگر عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

درخواست کے مطابق قانون کے تحت ہر سیاسی پارٹی کے لیے ہر سال حاصل کردہ فنڈ، اثاتے اور ان کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی بھی غیر ملکی سے فنڈ نہیں لے سکتی۔ اسی طرح پاکستانی کمپنیوں، این جی او کارپوریٹ اداروں سے بھی فنڈنگ حاصل نہیں کی جا سکتی ہے۔

یہ مقدمہ 6 سال سے الیکشن کمیشن میں زیرالتوا ہے اور اس پر کارروائی آگے بڑھنے میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حالیہ جلسوں میں اپوزیشن رہنماؤں نے اس پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔

Related Posts