اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی سٹی ونگ اور تمام الائیڈ ونگز نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت 16 ہزار 5 سو ملازمین کی برطرف کے خلاف اظہارِ یکجہتی کے لئے احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ لگالیا ہے۔
الائیڈ ونگز کے عہدیداروں نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان سرکاری ملازمین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں جن کو سپریم کورٹ نے آرڈر کے تحت برطرف کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ روزگار فراہم کیا ہے یہ ہزاروں خاندان اب بے روزگار ہو چکے ہیں، جس کا ہمیں دلی دکھ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے قائد بلاول بھٹو نے واضح طور پر دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ وہ ان ملازمین کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ ملک کے نامور وکلاء جن میں فاروق ایچ نائیک، نیئر بخاری، لطیف کھوسہ، افتخار گیلانی شامل ہیں ان کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔ یہ وکلاء کی ٹیم سپریم کورٹ میں ری ویو پیٹیشن دائر کرے گی اور معزز عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ برطرف کئے گئے ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
عہدیداروں کا کہنا تھا کہ 2010 میں دونوں ایوانوں سے یہ بل پاس ہو کر آیا تھا سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیوں دیا۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے پہلے اسٹیل ملز میں ملازمین کو برطرف کیا گیا اور اب ان ملازمین کو برطرف کردیا۔ ان میں کچھ ایسے لوگ تھے جو ریٹائرمنٹ کے قریب تھے، ان کو بھی برطرف کردیا گیا ہے نہ ہی ان کو واجبات دیے گئے ہیں نہ ہی پنشن دی گئی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام برطرف کیے گئے ملازمین کو بحال کیا جائے یہ ایک ڈاکہ ہے، یہ پارلیمنٹ پر ڈاکہ ہے، پارلیمنٹ کی حرمت اور آئین کی توہین کی گئی ہے۔ جب اسمبلی سے کوئی چیز منظور ہو جائے تو اسمبلی میں ہی جانا پڑتا ہے۔ عدالتوں کی آڑ میں عوام کا معاشی قتل شروع کر رکھا ہے یہ معاشی قتل کم از کم پیپلز پارٹی کو قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے ٹاپ کلاس کے وکیل ری ویو میں جا رہے ہیں مجبوری ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ریویو میں ہی جانا پڑے گا، کامیابی ہماری ہوگی دو نمبر حکمرانوں کو گھر جانا ہوگا۔ پارلیمنٹ ایکٹ کو پارلیمنٹ میں ہی آنا چاہیے تھا۔
عہدیداران کا کہنا تھا کہ ہم مزدوروں سے اظہارِ یکجہتی کرتے رہیں گے 13ستمبر کو پارلیمنٹ کے سامنے سرکاری ملازمین اور ٹریڈ یونینز برطرف کئے گئے ملازمین کی بحالی کے لیے احتجاج کریں گے اور پھر دما دم مست قلندر ہوگا۔