کراچی اور حیدر آباد میں آج بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ جاری ہے جس کا ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا۔ جماعتِ اسلامی اور پی ٹی آئی نے متحدہ رہنماؤں پر کڑی تنقید کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے روئیے کو بلدیاتی انتخابات سے فرار کا بہانہ بنا لیا، کھیل کا میدان چھوڑ دیا اور بھاگ کھڑی ہوئی۔
ایم کیو ایم کا بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان
میڈیا سے گفتگو کے دوران سابق وزیرِ بحری امور علی زیدی نے کہا کہ ایم کیو ایم الیکشن سے بھاگ جانے کے باوجود وفاقی حکومت نہیں چھوڑے گی۔ دراصل ایم کیو ایم کو 246 یونین کونسلز میں امیدوار نہیں مل سکے۔
سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ امیدوار نہ ملنے کی وجہ سے ایم کیو ایم کے پاس انتخابات سے فرار کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا، تاہم متحدہ کے بائیکاٹ سے پی ٹی آئی براہِ راست فائدہ اٹھائے گی۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی نے پیش گوئی کی کہ کراچی اور حیدر آباد کا میئر تحریکِ انصاف کا ہوگا۔ جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی ایم کیو ایم رہنماؤں کو کڑی تنقید کانشانہ بنایا۔
امیر جماعتِ اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم میدان میں آئے ، خود اپنی اہمیت اور سیاسی قد کاٹھ کا اندازہ لگائے۔ ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیلئے سازش کی۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی کو بھی حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹس پر تحفظات تھے لیکن پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم ایسے اعمال میں ملوث ہیں۔ یہ تاثر درست نہیں کہ ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کی ساکھ ختم ہوجائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








