فارن فنڈنگ کیس، دوہری شہریت والے فنڈ دے سکتے ہیں۔پی ٹی آئی وکیل کا دعویٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

فارن فنڈنگ کیس، دوہری شہریت والے فنڈ دے سکتے ہیں۔پی ٹی آئی وکیل کا دعویٰ
فارن فنڈنگ کیس، دوہری شہریت والے فنڈ دے سکتے ہیں۔پی ٹی آئی وکیل کا دعویٰ

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف  کے وکیل نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ قانون دوہری شہریت رکھنے والوں کو سیاسی جماعتوں کو فنڈ دینے کا اختیار دیتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فارن فنڈنگ کیس کی سماعت آج چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی قیادت میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے اعتراض اٹھایا کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر فعال نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

بہتر ہے صدرِ مملکت استعفیٰ دے دیں۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مطالبہ

فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے دو اراکین کے بغیر کام کر رہا ہے جو 2019ء میں ریٹائر ہو گئے تھے۔ انہوں نے آئین کی دفعہ 218 کا حوالہ دیا جس میں ہر صوبے سے نمائندگی لازمی قرار دی  گئی ہے۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی بھی معاملے پر اس وقت تک احکامات جاری کرنے کا مجاز نہیں جب تک کہ یہ مکمل طور پر فعال نہ ہوجائے۔ درخواست گزار اکبر بابر کی الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کو فراہم دستاویزات درست نہیں۔

دلائل کے دوران تحریکِ انصاف کے وکیل نے کہا کہ اکبر ایس بابر نے میڈیا سے بات چیت کے دوران فارن فنڈنگ پر سیاق و سباق سے ہٹ کر بات کی۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی وکیل کے دلائل کے بعد سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

قبل ازیں اسٹیٹ بینک کے ذریعے طلب کیے گئے ریکارڈ کی 8 جلدوں کی رپورٹ سے ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی نے مبینہ طور پر غیر ملکیوں سے بغیر کسی ذرائع اور تفصیلات کے اربوں روپے لینے کی اجازت دے کر فنڈنگ قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ 

Related Posts