پی ٹی آئی کو احساس ہے کہ کراچی میں درخت لگانا کتنا اہم ہے،خرم شیر زمان

تازہ ترین

تازہ ترین

پاک کیوی سیریز منسوخی پر پروپیگنڈا کرنے والی اپوزیشن جماعتیں زہریلے سانپ ہیں، خرم شیرزمان
پاک کیوی سیریز منسوخی پر پروپیگنڈا کرنے والی اپوزیشن جماعتیں زہریلے سانپ ہیں، خرم شیرزمان

کراچی:پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے “لیٹس گرین کراچی” مہم کے حوالے سے ڈیفنس میں کیمپ کا انعقاد کیا۔

مرکزی جوائنٹ سیکریٹری پی ٹی آئی و رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی، اراکین سندھ اسمبلی خرم شیر زمان اور شہزاد قریشی نے شہریوں نے گرین کراچی مہم کے تحت شہریوں میں پودے تقسیم کیے۔

اراکین اسمبلی و پی ٹی آئی رہنماوں نے شجر کاری کی اہمیت پر شہریوں کا آگاہی فراہم کی۔ رکن سندھ اسمبلی و صدر پی ٹی آئی کراچی خرم شیر زمان نے کہا کہ سندھ حکومت نے اربن فارسٹ بنانے کا دعوی کیا بدقسمتی سے اربن فارسٹ بکرا پیڑی میں تبدیل ہوگیا۔

پی ٹی آئی کراچی کو احساس ہے کہ کراچی میں درخت لگانا کتنا اہم ہے۔ وزیر اعظم کا فیصلہ ہے کہ پورے پاکستان کو ہرا بھرا کرنا ہے،ہم نے اسی لیے کراچی شہر کو سرسبز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کراچی ریجن پورے شہر میں اپنی مہم جاری رکھے گی۔ 14اگست کو ہم نے اپنی مہم کا آغاز ضلع شرقی سے کیا۔ اس دن سے ہمارے ورکرز نے ضلع میں پودے لگا رہے ہیں۔

آج ہم نے اپنی مہم کا آغاز ضلع جنوبی سے کیا ہے۔ ہمارے عوامی نمائندے شہزاد قریشی اور ایم این اے آفتاب صدیقی شجر کاری مہم کیلئے متحرک ہیں۔ ہمارے نمائندے پورے ضلع میں ہزاروں پودے لگانے کا عزم رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو بھی احساس دلانا ہے۔ گلوبل وارمنگ کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ سندھ حکومت کو احساس دلانا ہے کہ یہ اصل ذمہ داری آپ کی ہے۔ ہماری خواتین لوگوں میں درخت تقسیم کریں گی۔ مگر اصل مہم حکومت چلا سکتی ہے۔

شجر کاری مہم چلانا حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول زرداری لوگوں کی خدمت کرنیکے بجائے سیاست کرنے کے شوقین ہیں۔ نالائق اعلیٰ کے ساتھ سیاست نہیں صرف تماشہ بن رہا ہے۔

ہم نے وزیراعظم سے کہا ہے دیگر صوبوں کی طرح سندھ بھی آپ کا ہے۔ جس طرح صوبے میں کرپشن کی جارہی ہے اس صوبے کو واپس بہتر کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ پیپلز پارٹی وزیراعظم کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک سندھ حکومت اقتدار میں رہے گی بہتری کی امید نہیں ہے۔ درخت لگانا دور کی بات ہے۔ سندھ کے عوام کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے۔ اسکولوں میں بچوں کے پاس تعلیم نہیں ہے۔ ڈیڑھ سال سے صوبے کے اسکول بند ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے نصاب تعلیم میں ضرورت کے مطابق تبدیلیوں کا حکم دیدیا

اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں علاج نہیں ہے۔ صوبے بھر میں ایمبولینس موجود نہیں ہے۔ کراچی میں جرائم کے وارداتوں میں بیتحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔

Related Posts