انتظامیہ قربانی کی کھالوں کیلئے این او سی کے نام پر دینی اداروں کو تنگ کرنے سے باز رہے، قاری عثمان

تازہ ترین

تازہ ترین

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان نے کہا ہے کہ جب بھی عیدالاضحٰی قریب آتی ہے دینی مدارس، دینی جماعتوں اور رفاہی تنظیموں کیلئے نئی مشکلات کھڑی کردی جاتی ہیں۔

تاریخی ضابطہ اخلاق کے باوجود کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنرز اور کراچی انتظامیہ چرم قربانی جمع کرنے کیلئے این او سی میں نئی نئی شرائط لگا کر نہ جانے کس ایجنڈے پر کام کررہے ہیں؟

وہ دو ہفتے کے پشاور، سوات، شانگلہ اور اسلام آباد کے دورے سے واپسی پر جامعہ عثمانیہ شیرشاہ اور دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں علماء کرام اور احباب سے گفتگو کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:

لاپتا آبدوز ممکنہ طور پر کن حالات سے دوچار ہوسکتی ہے؟

قاری محمد عثمان نے کہا کہ سالہا سال سے کراچی میں چرم قربانی جمع کرنے کیلئے تمام دینی مدارس، دینی جماعتوں، رفاہی تنظیموں، ہوم ڈیپارٹمنٹ، کراچی انتظامیہ اور کراچی پولیس کے درمیان ایک معاہدہ کے تحت متفقہ ضابطہ اخلاق مرتب کیا گیا تھا، اسکی روشنی میں کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنرز، کراچی پولیس اور ہوم ڈیپارٹمنٹ پابند ہیں کہ پرانے کسی دینی مدارس، دینی جماعتوں، رفاہی اداروں کیلئے انکوائری کے نام پر نئی مشکلات نہیں کھڑی کی جائیں گی۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ ان تاریخی دستاویز، ضابطہ اخلاق اور معاہدے کے بعد نت نئے اقدامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ کمشنر کراچی اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز فوری طور پر متفقہ ضابطہ اخلاق کی روشنی میں فوری طور پر رجسٹرڈ دینی مدارس، دینی جماعتوں اور رفاہی تنظیموں کو چرم قربانی جمع کرنےکیلئے این او سی جاری کریں بصورت دیگر علمائے کرام، دینی مدارس، دینی جماعتیں کسی بھی زیادتی کا منہ توڑ جواب دینے پر مجبور ہوں گے۔

علاوہ ازیں علماء کرام نے طے کیا ہے کہ پہلے مرحلے پر کمشنر کراچی سے مل کر انہیں متفقہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد پر مجبور کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اگلے لائحہ کیلئے دفتر عالمی مجلس ختم نبوت میں کراچی بھر کے علماء کرام کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔

Related Posts