کراچی کے گھر میں آتشزدگی کے باعث قیمتی جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ وزیرِ تعلیم و محنت سندھ سعید غنی کشمیر کالونی کے متاثرہ گھر پہنچے جہاں ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے گیس لیکیج کی وجہ سے آتشزدگی ہوئی ہو، تاہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر سعید غنی آج صبح کشمیر کالونی میں آگ سے متاثرہ گھر پہنچے اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو بھی کی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ گیس کا مسئلہ چل رہا ہے لیکن ابھی تک اِس واقعے کی تفصیلات کا معلوم نہیں کہ آیا اس کی وجہ گیس لیکیج تھی یا نہیں۔
وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ گھر میں تمام لوگ جاگ رہے تھے اور ناشتے کی تیاری کر رہے تھے جب یہ حادثہ پیش آیا۔ ہوسکتا ہے کہ گیس لیکیج کی وجہ سے ہی یہ حادث پیش آیا ہو، تاہم وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ پولیس کا اندازہ ہے کہ یہ واقعہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پیش آیا، تاہم یہ ابتدائی تحقیقات ہیں۔ آگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ واقعے کے کافی دیر بعد پہنچی۔
سعید غنی نے فائر بریگیڈ کے دیر سے پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ فائر بریگیڈ کا آفس قریب ہی موجود ہے، پھر تاخیرکیسے ہوئی؟ واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں کے والد کو اللہ تعالیٰ صحت دے، اس کے بعد ان کا تفصیلی بیان لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کا بہتر علاج یقینی بنایا جا رہا ہے۔ بچوں کے والد کا بیان سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی وجوہات کا درست علم ہوسکے گا۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل کشمیر کالونی گھر میں آگ لگنے سے 3 بہن بھائی جاں بحق، گھر کا سربراہ بیوی اور بچی زخمی ہوگئے، پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔
چھیپاذرائع کا کہنا تھا کہ 2 منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر شارٹ سرکٹ سے آگ لگی اور نچلی منزل پر مقیم خاندان کے 3 بچے 6 سالہ حمزہ فیاض، 5 سالہ ثانیہ اور 1 سالہ عمیمہ جاں بحق ہوگئے۔
مزید پڑھیں: گھر میں آگ لگ گئی،3 کمسن بہن بھائی جاں بحق، 3 افراد زخمی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








