عمران خان سے وزارتِ عظمیٰ چھیننے کیلئے دباؤ ڈالا گیا، سائفر کا متن منظرِ عام پرآگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: عالمی جریدے ”دی انٹرسیپٹ“ نے رپورٹ کیا ہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کیلئے امریکی محکمۂ خارجہ نے مبینہ طور پر 7مارچ کی میٹنگ میں دباؤ ڈالا تھا۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز دی انٹرسیپٹ نے رپورٹ کیا کہ سائفر کے متن میں امریکی حکام کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ ڈالا گیا جس کا نتیجہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی صورت میں سامنے آیا جس کے پیچھے ”خیال“ یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عسکری قیادت تھی جبکہ عمران خان طویل عرصے سے سائفر کا حوالہ دیتے آئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:

پانچ سال میں ایک قانون بھی عوامی مفاد کا نہیں بنا، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیر اعظم عمران خان فوج پر الزامات عائد کرتے آئے ہیں جن کا ہر سطح پر جواب دیا گیا۔ سائفر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ”ایک امریکی سفارت کار نے کہا کہ اگر پاکستان کے وزیر اعظم کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا دیا جائے تو سب کو معاف کردیا جائے گا۔“

سفیرِ پاکستان کا تیار کردہ مذکورہ سائفر جسے سفارتی زبان میں کیبل یا ٹیلی گرام بھی کہتے ہیں پاکستان کو بھیجا گیا۔ دی انٹرسیپٹ کا کہنا ہے کہ سائفر کے مطابق وعدہ کیا گیا کہ اگر عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کردیا جائے تو قریبی تعلقات بحال ہوجائیں گے جبکہ سائفر نامی اس دستاویز کی درجہ بندی ”خفیہ“ کے طور پر کی گئی ہے۔

سائفر میں محکمۂ خارجہ کے عہدیداران کی ملاقات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں جنوبی و ایشیائی امور کے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو اور اُس وقت امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان کے نام سائفر میں موجود ہیں۔ دی انٹرسیپٹ کا دعویٰ ہے کہ اسے سائفر کا متن پاک فوج کے گمنام ذریعے سے حاصل ہوا ہے۔

دی انٹرسیپٹ کے مطابق مذکورہ ”گمنام ذریعے“ کا عمران خان یا ان کی پارٹی پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔ مبینہ سائفرمیں کیے گئے انکشافات سے عمران خان کے عسکری قیادت پر لگائے گئے الزامات میں ”کیا واقعی کوئی صداقت ہے؟“ اس سوال پر ایک بار پھر بحث و تمحیص کا آغاز ہوگیا ہے۔ 

 

Related Posts