لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو مقدمہ وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف درج ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت آج احتساب عدالت لاہور میں ہوئی۔ قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
احتساب عدالت لاہور کو دفترِ خارجہ نے رپورٹ جمع کرائی جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ابھی تک شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری وصول نہیں کیے گئے جبکہ حمزہ شہباز اب کورونا وائرس کے مریض نہیں رہے۔ کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ منفی نکلا ہے۔
دورانِ سماعت میڈیا نمائندگان سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہم قومی احتساب بیورو (نیب) اور وزیرِ اعظم کے گٹھ جوڑ کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ بعد ازاں نیب حکام نے شہباز شریف کو گفتگو سے روک دیا۔
قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ میری کمر کی تکلیف سے ایک دنیا خوب واقف ہے، مجھے میز پر دیا جانے والا کھانا اب جانتے بوجھتے زمین پر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ میں جھکوں اور مجھے کمر کی تکلیف ہوجائے۔
شہباز شریف نے الزام لگایا کہ یہ سب کچھ وزیرِ اعظم اور معاونِ خصوصی احتساب شہزاد اکبر کے اشاروں پر ہو رہا ہے۔ اگر خدانخواستہ میری کمر کو کوئی تکلیف پہنچی یا میری جان چلی گئی تو ایف آئی آر وزیرِ اعظم اور شہزاد اکبر کے خلاف ہوگی۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا احترام ضروری ہے، کھانا زمین پر رکھنا ایک ناقابلِ برداشت حرکت ہے۔ اگر میں نے وزٹ کیا تو کہا جائے گا کہ جج نے جا کر ایک سیاستدان سے ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: جماعتِ اسلامی کے مرکزی نائب امیر کا لاہور میں انتقال
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








