آرمی چیف کی تعیناتی، سمری کا نہ آنا بہت بڑی ناکامی ہے۔شاہد خاقان عباسی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری نہ آنا بہت بڑی ناکامی بلکہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہم تعیناتی کی سمری اب تک کیوں نہیں آئی؟ وزیر اعظم شہباز شریف کو اختیار ہے کہ سمری نہ آنے کا از خود نوٹس لیں۔

یہ بھی پڑھیں:

عمران خان توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کیلئے عدالت میں آج پیش ہونگے

ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم نے اگر خود ایکشن لیا تو تقرری کے عمل میں ابہام پیدا ہوسکتا ہے۔ اہل آدمی کا نام شامل نہ کرنا غیر قانونی ہے۔ اہل آدمی کی جگہ دوسرے کو رکھنا بھی غیر قانونی عمل ہوگا۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اہم تعیناتی کی سمری میں اہلیت نظر انداز کرنے پر یہ معاملہ عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ وزارتِ دفاع پر بھاری ذمہ داری ہے کہ معاملہ عدالت میں چیلنج نہ کیا جائے۔

قبل ازیں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دو تین روز میں آرمی چیف کی تقرری کا مرحلہ مکمل ہوجائے گا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو اختیار ہے کہ سمری ملنے کے بعد مزید نام بھی مانگ سکتے ہیں۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ سمری بھیجنا روایت ہے، قانونی ضرورت نہیں۔ عمران خان کے ساتھ اس کے بعد دو دو ہاتھ کرلیں گے۔ اہم ادارے کے سربراہ کی تقرری پر غلط خبریں چلائی گئیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ادارے کا ماضی میں کردار ماورائے آئین رہا، آج وہ ادارہ آئین کے تحت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ آج 75 سال بعد اگر ادارہ آئین کے تابع رہنا چاہے تو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے۔ عمران خان کے حربوں سے ملک و قوم کی وحدت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

 

Related Posts