سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ کوڈالر دینا بند کر دیئے ہیں اور بینک مرضی کے ریٹ لگا کر ڈالرایکسپورٹرز سے لے کر امپورٹرز کو دیئے جارہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کے بعد اسٹیٹ بینک نے انٹربینک میں کنٹرول کھود یاہے۔
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ڈالر کو مستحکم ہونا چاہیے تھا مگر ایسا سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے نہ ہوسکا۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آپ نے کہا کہ گزشتہ حکومت20 ٹریلین کا قرض بڑھاکرگئی مگر موجودہ حکومت نے آپ نے100 دن میں کیا کیا7.3 ٹریلین قرض بڑھا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی صورتحال کی بہتری کا واحد حل الیکشن ہے۔ مارکیٹ کو ان پر اعتماد نہیں ہے، ابھی مزید مہنگائی کا طوفان آئے گا۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے بھی آج تسلیم کیا کہ معاشی صورتحال کی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ یہ سب کو بےوقوف بنا سکتے ہیں لیکن مارکیٹ کو نہیں۔