اسلام آباد: سابق وفاقی وزیرِ انسانی حقوق اور پی ٹی آئی کی سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے بیڈ روم میں جاسوسی کے آلات لگائے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے سابق قائدِ ایوان شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شیریں مزاری نے کہا کہ میرے گھر سے مشکوک ڈیوائس برآمد ہوئی جس کا مقصد میری جاسوسی کرنا تھا۔ جاسوسی ڈیوائس عمران خان کے گھر سے بھی برآمد ہوئی۔
مذاکرات کرلینگے، حکومت انتخابات کا اعلان کرے۔شاہ محمود قریشی
پریس کانفرنس کے دوران سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ عمران خان کے گھر سے کچھ روز قبل جاسوسی آلہ برآمد ہوا۔ میرے گھر سے بھی مشکوک ڈیوائس نکلی۔ یہ میرے کمرے کی ٹیبل سے نکلی ہے جو امریکی ماڈل کا وائس ریکارڈر ہے۔
رہنما پی ٹی آئی شیریں مزاری نے کہا کہ میرے بیڈ روم میں یہ ڈیوائس لگانے والا کون ہے؟پہلے مجھے اغوا کر لیا گیا، یہ بھی سوال ہے۔ تحریکِ انصاف والوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ آئین و قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ صحافی بولیں تو مقدمہ درج ہوجاتا ہے۔
تحریکِ انصاف رہنما شیریں مزاری نے کہا کہ میرے خلاف 4 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ ملازم عارضی طور پر رکھے جاتے ہیں۔ ایک ملازم کو دھمکیاں ملیں کہ بیٹے کو قتل کردیں گے، غریب طبقے کو اس طرح کے بے ہودہ کام دے دئیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے بیڈ روم سے کیا معلومات چاہئیں، یہ مجھے علم نہیں۔ زرداری نے بلیک واٹر کو اپنے دور میں کھل کر ویزے دئیے۔ امریکی سفارتخانہ جاسوسی سرگرمیوں کا قلعہ بن گیا۔ شبلی فراز نے کہا کہ شیریں مزاری کے گھر پر آلہ نصب کرنا انتہائی خطرناک ہے۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں کہ اور کتنے پی ٹی آئی رہنماؤں یا دیگر لوگوں کے گھروں پر، دفاتر میں یا دیگر جگہوں پر ایسے آلات لگائے گئے ہوں گے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید بھی کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








