کراچی: ڈاکٹر قادر مگسی نے 14 اکتوبر کو سندھ بھر ہڑتال کرنے اور کاروبار بند رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ سندھ کی ایک انچ زمین کسی کو نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ کے سمندری جزائر کے حوالے سے وفاقی آرڈیننس کے خلاف سندھ ترقی پسند پارٹی کی اپیل پرہزاروں افراد کے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
احتجاجی دھرنے میں تمام قوم پرست پارٹیوں کے رہنماؤں، ادیبوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین شاہراہ فیصل سے ریلی کی صورت میں گورنر ہاؤس کے قریب فوارہ چوک پر پہنچے،جہاں پر تین گھنٹے تک دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ چھ کروڑ سندھیوں کی ماں ہے اور ماں کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کو قبول نہیں کریں گے۔
اسلام آباد سندھ پر قبضے کی نیت رکھتا ہے،صدر مملکت عارف علوی،وزیر اعظم عمران خان اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ وہ عالمی سازشوں کا شکار بن کر سندھ کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں، اس لئے ہم آج سے ان کو سندھ دشمن قرار دیتے ہیں۔
قادر مگسی نے کہا کہ 15 اکتوبر کو سندھ کے ہزاروں افراد کشتیوں پر سوار ہوکر بنڈار اور ڈنگی جزائر پر فشر فوک فورم کے ساتھ جائیں گے،ہم جزائر پر پہنچ کر احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جزائر کے مسئلے پر وفاقی حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ آپ کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ آئی لینڈ اتھارٹی کا آرڈیننس فوری طور پر واپس لیا جائے۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے گورنر ہاؤس کو یاداشت نامہ پیش کیا جس میں لکھا گیا ہے کہ آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے،کیونکہ آئین میں جزائر سندھ کی ملکیت ہیں۔
سندھ کے وسائل پر قبضے کے لئے ملک کے صدر گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر سرمایہ کاروں کے ساتھ جو اجلاس کر رہے ہیں وہ بھی آئین کی خلاف ورزی ہے اس لئے سندھ کے عوام آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا آرڈیننس واپس لے کر سندھ کی بے چینی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔