حیدرآباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے جس نے قوم کو آئی ایم ایف کا غلام بنادیا۔ پاکستان کو بھی غرناطہ بغداد و ثمر بخارا بنانے کی سازش تیار ہو رہی ہے۔
جنہوں نے چالیس و پچاس سال حکومت کی وہ پاکستان کو نہیں بچا سکے کشمیر ہم سے چھین کیاگیا ہے جو نظریہ پاکستان کے غدار ہیں وہ کبھی بھی پاکستان میں اسلام کا نفاذ نہیں ہونے دیں گے۔
پی ٹی آ ئی کی موجودہ حکومت نے 950 دنوں میں قوم کو مہنگائی و مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو بھی قوم بار بار آزما چکی ہے۔
اسلامی نظام کے نفاذ،تحفظ ناموس رسالت صہ اور ملک کی بقاء کے لیے درگاہوں و خانقاہوں کو آگے بڑہ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان سے نہیں اور جن کا کاروبار بچے و بنک اکائونٹس باہر ہیں۔
یہ وطن عزیز پاکستان ہمارے پاس امانت ہے اس کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہم سب کی زمہ داری ہے۔
اس ملک کو ہم و آ پ نے بچا نا ہے یہی پیغام لیکر یہاں آیا ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد کے مقامی ہال میں علماء مشائخ رابطہ کونسل کے تحت تحفظ ختم نبوت ناموس اہل بیت و عظمت صحابہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
مرکزی نائب امیر اسداللہ بھٹو، آستانہ کوٹھ مٹھن شریف کے سجادہ نشین پیر معین الدین محبوب کوریجہ، ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، پیر ذاکری سید منیر شاھ، سندھ سید ایسوسیشن کے پیر محی الدین عرف جانی شاھ، پیر عمران احمد نقشبندی مرشدی، روحانی سلسلے کے سید حسنین شامی، پیر دیدہ دل بخاری، مفتی محمد شریف سعیدی،پیر سکندر شاہ، پیر محمد سرور نقشبندی، مممتاحسین سہتو علماء مشائخ رابطہ کونسل پاکستان کے صدر میاں مقصود احمد، جنرل سیکرٹری پیر برہان الدین پیرزادہ، سندھ کے کنوینر حافظ نصراللہ عزیز چنا نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس میں روحانی شخصیت وقار یوسف عظیمی سمیت سندھ بھر سے مختلف درگاہوں و خانقاہوں کے گدی نشین نمائندے وخلیفہ، علماء و مشائخ بڑی تعداد میں شریک تھے۔
مرکزی نائب قیم محمد اصغر، سندھ کے جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ، عبدالوحید قریشی، عبدالحفیظ بجارانی اور سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا ودیگر رہنما بھی موجود تھے۔
سینیٹر سراج الحق نے مزید کہاکہ موجود حکومت سابقہ حکومتوں کی طرح ناکام ہے۔اس کا ایجنڈہ بھی وہی ہے آ ئیں ایم ایف ورلڈ بنک و عالمی سازشوں کا آلہ کار بننا۔ علماء مشائخ کی زمہ داری ہے کہ وہ اٹھیں اور ان طاغوتی و ظالم قوتوں کے خلاف متحد ہوکر میدان عمل میں عمل میں آ ئیں۔
امت کو تقسیم کرنے والے شیطان کے ایجنٹ ہیں۔ ہمیں تقسیم در تقسیم کیا جا رہا ہے گروہ و مسلکوں کے ذریعے لڑایا جا رہا ہے۔
ختم نبوت کے خلاف سازش اہل بیت و صحابہ کرام کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے اس صورتحال میں ہمیں فروعی و اجتماعی اختلافات کو بالا طاک رکھ کر آگے بڑھنا چاہئے۔
سندھ باب الاسلام اور اولیائے اللہ کی سرزمین ہے اور یہاں کے لوگوں نے دین کی خدمت کی ہے اب سندھ سے ہی یہ تحریک اٹھنی چاہئے اور انگریز کے نظام کو مسترد کرتے ہوئے کتاب اللہ کی بالادستی قائم کریں۔
سراج الحق نے کہاکہ وہ امیر یا سینیٹر نہیں بلکہ نبی مہربان کے غلام کی حیثیت سے آ پ سے مخاطب ہوں۔ ہم باطل وظلم جھالت کرپشن اور استعمار کے مقابلے میں فولادی تلوار ہیں۔
اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ باطل نظام سے نجات اور قرآن و سنت کے نفاذ سے ہی تمام مسائل۔ حل ہو جائیں گے۔ علماء مشائخ معاشرے کے اہم و موثر ترین طبقہ ہے۔
پاکستان کو بچانا ہے تو رسم شبیری ادا کرنا ہو گا۔ آ ستانہ عالیہ کوٹ مٹھن شریف پیرمعین الدین محبوب کوریجہ نے کہاکہ آ ج وطن عزیز مختلف مسائل کا شکار ہے۔
اس کی سالمیت و بقاء اور سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے علماء ومشائخ کو لاتعلق رہنے کی بجائے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔