انشورنس کمپنیاں کورونا کے دوران ڈیلور نہیں کر سکیں ،ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

تازہ ترین

تازہ ترین

Insurance companies

کراچی :ایف پی سی سی آئی کے مرکزی قائمہ کمیٹی برائے انشورنس کے سابقہ کنوینر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ کورونا وباء کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر کی انشورنس کمپنیاں ڈیلور نہیں کر سکی ہیں۔

انشورنس کمپنیوں کے صارفین کو مایوس کیا ہے اس لئے انھیں نئی مصنوعات متعارف کروانے اور اپنا کام بہتر بنانے کی ضرورے ہے تاکہ وہ چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے انشورنس ایشوسی ایشن آف پاکستان کے سینئروائس چیئرمین عبدالحئی جو الفلاح انشورنس کے سی ای او بھی ہیں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں انشورنس کمپنیوں کورونا وائرس سے متعلقہ کلیمز کی ادائیگی نہیں کر رہی ہیں کیونکہ اسے بیمہ پالیسیوں میں کور نہیں کیا گیا تھا اور نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ کسی بھی انشورنس کمپنی کو دیوالیہ کرنے کے لئے کافی ہونگے اس لئے صورتحال بہتر بنانے کے لئے حکومتی سطح پر مداخلت ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ انشورنس کاروبار اور عوام کو تحفظ فراہم کرتی ہے مگر موجودہ حالات میں ایسا ناممکن ہو گیا ہے جس کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ایس ای سی پی اور انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان اس سلسلہ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

جی ڈی پی کے مقابلہ میں انشورنس کا بین الاقوامی اوسط پانچ سے چھ فیصد ہے مگر پاکستان میں یہ ایک فیصد سے بھی کم ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً بیس ہزار افراد ٹریفک حادثات میں جان سے جاتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ زخمی ہو جاتے ہیںاس لئے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس اور گروپ میڈیکل انشورنس کو لازمی قرار دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کوایمرجنسی میں تحفط مل سکے۔

مزید پڑھیں: سائٹ صنعتی ایریا میں گیس کی فراہمی معطل،پیداواری سرگرمیاں رک گئیں،ریاض الدین

اس موقع پر انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سینئروائس چیئرمین عبدالحئی نے کہا کہ تمام کمپنیوں کو اپنے ملازمین کی لائف اور ہیلتھ انشورنس کروانے کا پابند کروانے کی ضرورت ہے جبکہ دیگر انشورنس ماہرین نے کہا کہ مختلف صوبوں میں انشورنس کے مختلف قوانین کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں اس لئے تمام صوبوں میں یکساں قوانین لاگو کئے جائیں۔

اس موقع پر انشورنس ایسوسی ایشن کے ستوت بٹ، لاہور انشورنس انسٹی ٹیوٹ کے محمد حسام ، یونائیٹڈ انشورنس کے جنرل منیجر التمش ملک اور دیگر بھی موجود تھے۔

Related Posts