کراچی: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے ملک کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ کراچی میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اس حوالے سے عافیہ موومنٹ کی جانب سے کراچی پریس کلب تا گورنر ہاؤس ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی،پاسبان کیسربراہ الطاف شکور،اور تحریک لبیک پاکستان کراچی کے رہنما علامہ رضی حسینی نقشبندی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ بر سر اقتدار آکر امریکہ میں قید عافیہ کو پاکستان واپس لائیں گے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ امریکہ تو اب عافیہ صدیقی کو رہا کرنا چاہتا ہے، مگر افسوس کہ پاکستان خو دان کی رہائی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
ریلی کے شرکا نے کراچی پریس کلب سے گورنر ہاؤس کی جانب مارچ کیا تو راستے میں پولیس نے مارچ کو روک لیا،اس موقع پر مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنان موجود تھے۔
یہ کارکنان عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے نعرے لگا رہے تھے، پولیس کی بھاری نفری موجود تھی،جن میں مردوں کے ساتھ خواتین پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
پولیس حکام نے ریلی کے شرکا کو آگے جانے سے روک کر صرف چند رہنماؤں کو گورنر ہاؤس کی طرف جانے کی اجازت دی،جس کے بعد ڈاکٹر فوزیہ صدیقی،پاسبان کے سربراہ الطاف شکور،اور تحریک لبیک پاکستان کراچی کے رہنما علامہ رضی حسینی نقشبندی گورنر ہاوس کی جانب روانہ ہو گئے۔
اس موقع پر انہوں نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے یاد داشت پیش کی، بعد ازاں رہنماؤں نے گورنر ہاؤس سے باہر آکر بتایا کہ ہم نے یاد داشت پیش کر دی ہے اور 3 دن کا وقت دیا ہے،اگر 3 دن میں اس پر کارروائی نہیں ہوئی تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔