کراچی: ادارہ ترقیات کراچی میں 150ورک چارج ملازمین جولائی 2018 سے اپنی تنخواہوں سے تا حال محروم، جبکہ اصل ملازمین کی آڑ میں 51 مبینہ جعلی ملازمین کو 2015 میں مستقل کر دیا گیا۔
ان 51 ملازمین میں گلستان جوہر ڈویژن سے بھرتی 27 جعلی ملازمین ایسے ہیں جن کی ورک چارج کی حیثیت سے بھرتی کی تاریخ 1989 اور 1991 ظاہر کی گئی ان کی تاریخ پیدائش شناختی کارڈ میں 1978اور 1980 ہے اس حساب سے یہ ملازمین جس وقت بھرتی ہوئے ان کی عمریں 11 تا 14 سال تھیں۔
جبکہ اس دور مین بھرتی کے لیے سرکاری ملازم کی عمر کی حد کم از کم 18 سال لازمی ہوتی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جعلی بھرتی کرنے والوں نے پچھلی تاریخوں میں بغیر حساب لگائے بھرتی ظاہر کر کے انہیں مستقل کردیا۔
ان ملازمین کی بھرتی میں کے ڈی اے کے افسران ملوث ہیں، جنہوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھرتی کرایا تھا اورکئی افسران کے سگے بھائی بھی بھرتی کیئے گئے، ملوث افسران میں محبوب عالم ڈائریکٹر ایڈمن انجینئرنگ، ان کے 2 بیٹے بھی مبینہ جعلی ملازم ہیں۔
رام چند سابق چیف انجینئر کے رشتہ داروں کا نام بھی شامل ہے، راؤ طارق چیف سیکیورٹی افسر کے 2 رشتہ داروں کے نا م بھی مبینہ طور پر بتائے جاتے ہیں،شمشیر (مرحوم)افسر، جبکہ انہیں مستقل کرانے میں کردار ادا کرنے والے ممبر ایڈمن عبدالقدیر منگی نے مبینہ طور پر 51 افراد کو مستقل ملازم کرنے کامبینہ طور پر بھاری نذرانہ وصول کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹوٹل 51 مستقل کیے گئے ملازمین میں سے گلستان جوہر کے کل 30 افراد کو ورک چارج ملازم ظاہر کر کے مستقل کیا گیا تھا ان میں سے صرف 3 ملازمین اصل ورک چارج تھے،جبکہ 27 جعلی افرادکو ملازمین ظاہر کر کے مستقل کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ان مبینہ جعلی بھرتی ہونے والے ملازمین کے بینک اسٹیٹمنٹ نکلوائی جائیں کہ انہوں نے ورک چارج ملازمین کی حیثیت کب تنخواہیں لینا شروع کیں تو تمام صورتحال سامنے آجائے گی۔
ان کے شناختی کارڈ اور بھرتی کی تاریخ سے عمرکا فرق تلاش کیا جائے،تو جعلی ملازمین کو آسانی سے گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔جبکہ اس گھناؤنے کھیل میں ملوث افسران کے خلاف بھی بڑے ثبوت مل سکتے ہیں اور ان کے خلاف بھی کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔