لاہور: عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر عثمان سعید کو 4 سال قید اور 1 کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی ہے۔ معزز جج نے حکم دیا کہ جرمانے کی رقم مجرم کی زمینیں فروخت کرکے ادا کی جائے۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت لاہور نے نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر عثمان سعید کو 4 سال قید اور 1 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوئے 10 سال کیلئے نااہل بھی قرار دیا۔ قومی احتساب بیورو نے سابق صدر کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔
سائٹ ایریا کراچی میں لوٹ مار کے بڑھتے واقعات، صنعتکار،ورکرز غیر محفوظ
نیشنل بینک کا ہسکول پیٹرولیم سے متعلق تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سے مکمل تعاون کااعلان
قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریفرنس کے مطابق مجرم عثمان سعید نے نیشنل بینک کے صدر کی حیثیت سے کروڑوں کی بدعنوانی کی جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر قومی خزانے کو 3 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ الزامات ثابت ہونے پر عدالت نے سزا سنائی۔
سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید نے 2005 سے 2018 کے دوران 10 کمپنیوں کو مبینہ طور پر 93 کروڑ 89 لاکھ 78 ہزار روپے تقسیم کیے۔ مجرم پر الزام ہے کہ انہوں نے 126 اکاؤنٹس بنا کر قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا۔
خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو کے ساتھ ساتھ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بھی بینکوں کی چھان بین میں مصروف ہوگیا۔ اس سے قبل نیشنل بینک آف پاکستان نے ہسکول پیٹرولیم سے متعلق تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سے مکمل تعاون کااعلان کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








