سرکاری افسران کو حبس بیجا میں رکھنے پرایم پی اے عبدالرشید کیخلاف مقدمہ درج

تازہ ترین

تازہ ترین

case registered against PMA Abdul Rasheed

کراچی:رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید کے خلاف کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ افسران کو اپنے دفتر میں بند کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔

مقدمے میں رکن سندھ اسمبلی پر حبس بے جا اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمہ درج کیے جانے کے بعد عبدالرشید کا بھی مؤقف سامنے آگیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایم پی اے پر حملہ ہوا تو ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ ایف آئی آر اور گرفتاریاں میرے حوصلے اور مشن کو نہیں دبا سکیں گی۔A case has been registered against PMA Abdul Rashid for keeping government officials in custodyواضح رہے کہ لیاری سے ایم پی اے عبدالرشید نے اپنے علاقے میں سیوریج مسائل حل نہ ہونے پر ایکسی این اور سپر وائزر سمیت2 افراد کو اپنے دفتر میں بندکرلیا تھا۔

سید عبدالرشید کاکہنا تھا کہ سندھ حکومت لیاری میں سیوریج کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ایک پائی نہیں دے رہی۔ ایکسی این کہتا ہے ان کی کوئی نہیں سنتا، اب میں اور وہ ساتھ ہیں، مسائل کے حل تک اپنے دفتر میں ایکسی این کے ساتھ بند رہوں گا۔

عبدالرشید نے کہا کہ لیاری میں گندے پانی کی صفائی کے لئے اپنا فلیٹ بیچ دیا، چار سال سے رکن اسمبلی کی حیثیت سے ملنے والی تنخواہ بھی لگادی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنا سب کچھ حلقے کے عوام پر لگانے کے بعد اب اس کے سوا کچھ نہیں بچا کہ ایکسی این کے ساتھ خود کو بھی بند کرلوں۔

مزید پڑھیں:سندھ حکومت نے پی ایس پی کے مطالبات بھی مان لئے، دھرنا ختم

بعدازاں پولیس اور واٹر بورڈ عہدیداروں نے مذاکرات کے بعد سرکاری افسران کو بازیاب کرایا تھا۔

Related Posts