مراد سعید کی زیر قیادت وزارت مواصلات بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی وزارتوں میں پہلے نمبر پر رہی جس پر مراد سعید کو تعریفی ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ مراد سعید کے دور میں ٹول ٹیکسز میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔
کارکردگی کے لحاظ سے اسد عمر کی وزارت منصوبہ بندی کو دوسرا درجہ ملا، یہ وہی اسد عمر ہیں جنہیں اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان اپنا سب سے بڑا معاشی ماہر قرار دیتے تھے اور حکومت میں آنے کے بعد انہیں وزارت خزانہ سے نکال باہر کیا تھا۔
سماجی تحفظ و تخفیفِ غربت کی وزارت کو بہترین کارکردگی میں تیسرے درجے پر جگہ ملی۔ثانیہ نشتر کی قیادت میں احساس پروگرام کے تحت کورونا میں لوگوں کو نقد مالی امداد اور راشن کے پروگرام کے تحت مدد فراہم کی گئی۔
وفاقی حکومت نے شفقت محمود کی زیر قیادت وزارت تعلیم کو چوتھا درجہ دیا اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت تعلیم کا نظام شدید زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ دوسال میں کورونا اور ناقص اقدامات کے باعث تعلیم کا جتنا نقصان ہوا اس پر اگلے کئی سالوں پر قابو پانا ناممکن ہے۔
حکومت کی منتخب کردہ وزارتوں کی اعلیٰ کارکردگی پر شیریں مزاری کی وزارت انسانی حقوق کوپانچویں نمبر ملا۔شیریں مزاری کی وزارت کو اگر پاکستان میں سب سے بدترین کارکردگی کے معیار پر جانچا جائے تو شائد اول سے بھی اوپر کا کوئی نمبر مل سکتا ہے۔
وزیراعظم کے ہاتھوں انعام حاصل کرنے میں خسرو بختیار کی وزارت صنعت و پیداوار چھٹےنمبر پر رہی۔
قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کو اعلیٰ کارکردگی میں 7 درجہ ملا۔اب یہاں عقل وشعور اب تک اس معمہ کو حل کرنے میں ناکام ہے کہ انہیں کس کارکردگی پر انعام ملا۔ معید یوسف کے دور میں ہی پاکستان افغان طالبان کی یقین دہانیوں کے باوجود افغانستان سے سیکورٹی فورسز پر حملے ہورہے ہیں اور اندرونی سلامتی کی صورتحال زیادہ قابل فخر نہیں ہے۔
تجارت کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تاہم عبدالرزاق داؤد کی وزارت تجارت گوکہ کارکردگی کی بنیاد پر آٹھویں نمبر رہی تاہم اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو تاجر شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
حکومت کے سب سے لاڈلے اور بااثروزیر شیخ رشید کی وزارت داخلہ کو شاندار کارکردگی پر 9واں درجہ ملا لیکن یہ کس بنیاد پر ملا یہ معلوم نہیں ہے۔
وفاقی وزراء میں انعامات کی دوڑ میں فخرامام کی نیشنل فوڈ سیکورٹی کی وزارت آخری ایوارڈ لے اڑی تاہم اگر ان کی وزارت کا جائزہ لیا جائے تو نیشنل فوڈ سیکورٹی کی اعلیٰ کارکردگی کی بدولت پاکستان کو اس وقت آٹا، چینی سمیت دیگرزرعی اجناس بھی باہر سے منگوانی پڑرہی ہیں۔