اسلام آباد: صحافی محسن جمیل بیگ کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کر دیا گیا، عدالت نے محسن بیگ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دیدیا۔
ذرائع کے مطابق محسن جمیل بیگ کا کہنا تھا کہ میرے گھر میں چھاپے کے دوران عجیب ماحول بنایا گیا، انہوں نے کہا کہ میں 32 سال سے صحافت میں ہوں، ایف آئی اے مجھے کال کر کے بلا سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میرے گھر پر بیوی بچے تھے، بغیر وردی میں اہلکار میرے گھر میں داخل ہوئے، آج کل وارداتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں، کیا معلوم کون ہیں۔
صحافی محسن جمیل بیگ نے کہا کہ میں پولیس کی حراست میں تھا اس دوران مجھ پر تشدد کیا گیا، عدالت میرا میڈیکل کرنے کا حکم جاری کرے، میرے ناک کی ہڈی اور پسلیاں توڑ دی گئی ہیں۔
وکیل محسن بیگ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی واضح ہدایات ہیں کہ بغیر وردی ریڈ نہیں کیا جا سکتا،جج انسداد دہشت گردی عدالت نے کہا کہ ابھی ان تمام معاملات کی تفتیش ہونی ہے۔
وکیل نے کہا کہ آپ جسمانی ریمانڈ نہ دیں، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیں، ابھی معاملے کی تفتیش ہونی ہے تب تک جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے۔
واضح رہے کہ صحافی محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے نے چھاپہ مار کارروائی کی تھی، اس دوران فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک ایف آئی اے کا اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔