بھارت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی، پاکستانP-5ممالک کو مدعو کرے گا، شاہ محمود قریشی

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی، پاکستانP-5ممالک کو مدعو کرے گا، ایف ایم قریشی
بھارت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی، پاکستانP-5ممالک کو مدعو کرے گا، ایف ایم قریشی

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی حالیہ خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن (P-5) ممالک کے نمائندوں کو مدعو کرے گا۔

فوجی ترجمان کے مطابق بھارت کا نامعلوم سپرسونک میزائل پاکستان کے شہر میاں چنوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستانP-5 کے نمائندوں سے صورتحال اور بھارت کی بار بار خلاف ورزیوں پر بات کرے گا۔

ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اسی نوعیت کی دوسری بار خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس اقدام سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا کیونکہ سعودی عرب، قطر کے طیارے اور پاکستان کی اندرون ملک پروازیں میزائل کی زد میں آ سکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنی جارحیت کا جواب دینا ہو گا، پاکستان اس کا جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں حکمران جماعت ہندوتوا کی پالیسیوں کو فروغ دے رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے 21 اراکین نے انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر لوک سبھا کے اسپیکر کو خط لکھا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے دوہرے معیار کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے حق میں ہے تاہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی:

پاکستان نے بھارت کی جانب سے سپر سونک فلائنگ آبجیکٹ کے ذریعے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج درج کرایا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی سپر سونک فلائنگ آبجیکٹ کے ذریعے ملکی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا گیا۔

بیان میں بتایا گیا کہ مذکورہ چیز 9 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے بجے بھارت کے علاقے سورت گڑھ سے پاکستان میں داخل ہوئی اور تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر پاکستان میں میاں چنوں شہر کے قریب زمین پر گر گئی جس سے شہری املاک کو نقصان پہنچا۔

بیان کے مطابق بھارتی سفارتکار کو بتایا گیا کہ فلائنگ آبجیکٹ کے ناقص تجربے سے نہ صرف شہری املاک کو نقصان پہنچا بلکہ زمین پر انسانی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ فلائنگ آبجیکٹ کی پرواز کے راستے نے پاکستانی فضائی حدود میں اڑنے والی کئی ملکی/بین الاقوامی پروازوں کو خطرے میں ڈالا جس کے نتیجے میں ہوا بازی کے سنگین حادثے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہو سکتی تھیں۔

بیان کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو کہا گیا کہ وہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی اصولوں اور ایوی ایشن سیفٹی پروٹوکول کے برعکس اس کی فضائی حدود کی صریح خلاف ورزی پر شدید مذمت بھارتی حکومت تک پہنچائیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ واقعات بھارت کی جانب سے فضائی حفاظت کو نظر انداز کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے تئیں بے حسی کے بھی عکاس ہیں۔

مزید پڑھیں: آج کوئی بیرونی طاقت ہم پردباؤ نہیں ڈال سکتی، وزیراعظم

بیان میں کہا گیا کہ ہم واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں جس کے نتائج سے پاکستان کو بھی آگاہ کیا جائے۔مزید برآں بھارتی حکومت کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کی غفلت کے ناخوشگوار نتائج کو ذہن میں رکھے اور مستقبل میں اس طرح کی خلاف ورزیوں کے دوبارہ ہونے سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

Related Posts