اسلام آباد: پاکستان میں 15 ماہ کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان سے وائلڈ پولیووائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا۔
نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں وائلڈ پولیو کیس رپورٹ ہوا جو رواں برس عالمی سطح پر رپورٹ ہونے والا تیسرا کیس ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ شمالی وزیرستان میں 22 اپریل کو وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون (ڈبلیو پی وی ون) کیس کی تصدیق ہوئی ہے، جو 9 اپریل کو معذوری کے ساتھ نیشنل انسٹی ٹیوٖٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کی لیبارٹری میں تصدیق ہوئی۔
اس حوالے سے کہا گیا کہ ‘پولیو لیبارٹری نے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے 15 اپریل کو ایک مثبت انوائرنمینٹل نمونہ حاصل ہونے کی تصدیق کی، دونوں وائرس ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں’۔
یادرہے کہ رواں برس 27 جنوری کو ملک میں پولیو کیسز رپورٹ نہ ہونے کا ایک سال مکمل ہوا تھا، اس سے قبل 2021 میں واحد کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوا تھا تاہم دیگر صوبوں سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔
مزید برآں سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز عامر اشرف کا کہنا تھا کہ یہ بچوں اور خاندان کے لیے ایک سانحہ ہے اور یہ پاکستان اور دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں کی بھی بڑی بدقسمتی کی بات ہے، ہم افسردہ ہیں لیکن کوشش جاری رکھیں گے۔
بعدازاں اُن کا کہنا تھا کہ پولیو کیس خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقے میں سامنے آیا ہے جہاں پولیو وائرس گزشتہ برس انوائرنمنٹ میں پایا گیا تھا اور وہاں پر ہنگامی منصوبے پر کام کیا جا رہا تھا۔
این ای او سی کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی خیبرپختونخوا کو پولیو کے حوالے سے خطرناک علاقہ قرار دیا گیا تھا جہاں 2021 کی آخری سہ ماہی میں انوائرنمنٹل نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس کی شناخت ہوئی تھی۔
این ای او سی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ کا کہنا تھا کہ اس سے پروگرام کی جانب سے جنوبی خیبرپختونخوا میں وائرس سے متعلق خدشات کی تصدیق ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی خیبرپختونخوا میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عالمی پولیو شراکت داروں نے پہلے ہنگامی بنیاد پر منصوبہ شروع کردیا ہے،بیان میں کہا گیا کہ وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ٹو اور تھری دنیا بھر میں ختم ہوچکی ہے جبکہ ڈبلیو پی وی ون اب تاریخی سطح پر کم ترین ہیں۔