اسلام آباد: وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق کریں گے، تقرری پاکستان کے آئین کا حصہ ہے۔ افواج کے خلاف بات کی سخت سزا آئین نے مقرر کی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں افطار ڈنر کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ فوج کے خلاف بات کرنے پر قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، فرح گوگی کے معاملے پر سب حقائق سامنے لائیں گے۔ جعلی خبروں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ میرے خلاف ماضی میں غلط رپورٹنگ کے باعث پاکستان اور چین کے تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے غیر ملکی سازش اور دھمکی آمیز خط کے معاملے پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہم پاکستان اور چین کے تعلقات کو بحالی کی جانب لے جارہے ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے 2 اجلاسوں میں بیرونی سازش ثابت نہ ہوسکی، اب یہ معاملہ پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی میں لائیں گے اور کمیشن بنانے پر بھی غور ہوسکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ تعلقات میں بہتری کی بھی کوشش ہوگی۔ ماضی میں پی ٹی آئی حکومت کی بد ترین سفارتی کارکردگی سعودی عرب، چین اور قطر سے تعلقات کی خرابی کا باعث بنی۔ دورۂ سعودی عرب میں سعودی قیادت سے ملاقاتیں ہوں گی۔ چین کا دورہ بہت جلد کروں گا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف جامعہ کراچی میں دھماکے کے تناظر میں چینی سفارت خانے میں پہنچے اور چینی صدر کے نام تعزیتی پیغام بھی تحریر کیا۔ اس موقعے پر وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیرِ منصوبہ بندی اور دیگر وزراء بھی ان کے ہمراہ تھے۔ شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے۔