جو مہنگائی کا طوفان پچھلی حکومت کی وجہ سے آیا اُس کا تدارک ضروری ہے، مفتاح اسماعیل

تازہ ترین

تازہ ترین

مفتاح اسماعیل
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ہم نے پیٹرول کی قیمت اس لئے بڑھائی کیونکہ وہ بڑھانی بہت ضروری تھی، نہ بڑھاتے تو روپے کی قدر مزید کم ہوجاتی، جو مہنگائی کا طوفان پچھلی حکومت کی وجہ سے آیا اُس کا تدارک ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں عائشہ غوث پاشہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خوشی سے نہیں بڑھائیں بلکہ یہ ہماری مجبوری تھی، اگر ہم یہ کام نہ کرتے تو پاکستان خدانخواستہ ڈیفالٹ کر جاتا۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ جون میں ہو گا، معاہدے کے بعد پیسے آجائیں گے، آئی ایم ایف سے 3 بلین ڈالر ملنے ہیں، ہم نے درخواست کی 2 بلین ڈالر مزید دیں، امید ہے آئی ایم ایف سے سب ملا کر 5 بلین ڈالر آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

ماہانہ 2000 روپے کا وظیفہ کیسے حاصل کریں؟ جانئے اہم معلومات

اُن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ورلڈ بینک سے ایک ارب ڈالر ملیں گے، ڈھائی ارب ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملیں گے، سعودی عرب سے تین بلین ڈالر کی توسیع بھی ہو جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ یکم جون کو پیٹرول مہنگا ہو یا نہیں؟ وزیرخزانہ نے لاعلمی کا اظہار کیا، اُن کا کہنا تھا کہ اس بارے میں علم نہیں کہ پیٹرول کی قیمت بڑھے گی یا نہیں، ابھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا، نہیں لگتا چار دن بعد دوبارہ قیمت بڑھے گی، تاہم بجلی کی قیمتیں بڑھانے کی ابھی کوئی سمری نہیں آئی۔

وفاقی وزیرخزانہ نے ملک میں مزید مہنگائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کیا گیا اورمہنگائی آئے گی، پیٹرول مہنگا نہ کرتے تو زیادہ مہنگائی ہوتی اور روپے کی قدر بھی کم ہوتی، پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی، بین الاقوامی منڈی میں بھی قیمت بڑھ گئی تھی۔

انہوں نے گزشتہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جومہنگائی کا طوفان پچھلی حکومت کی وجہ سے آیا اس کا تدارک ضروری ہے، ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے اندازہ ہے کہ بسوں کے کرائے بھی بڑھیں گے، ملک میں 85 فیصد پیٹرول 40 فیصد امیر ترین گھرانے استعمال کرتے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ شوکت ترین کا معاہدہ ڈیزل کی قیمت 300 اور پیٹرول 260 روپے کرنا تھا، ہم شوکت ترین کے والے فارمولے پر عمل نہیں کررہے، شوکت ترین کہہ گئے تھے کہ وہ پیسے رکھ کے گئے ہیں، ہمیں بتا دیں وہ پیسے کہاں ہیں، ہمیں کہیں نہیں ملے،عمران خان نے جو کیا اس سے ملک کی معیشت دیوالیہ ہوجاتی۔

انہوں نے کہا کہ 8 کروڑ 40 لاکھ پاکستانیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا، وظیفہ دینے سے 28 کروڑ روپے کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی،غریب ترین لوگوں کو 2 ہزار روپے دیئے جائیں گے، بےنظیر انکم سپورٹ والے رجسٹرڈ افراد کو دو دن تک پیسے دے دیئے جائیں گے۔

Related Posts