پانچ ممالک سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر منتخب

تازہ ترین

تازہ ترین

اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل کے پانچ نئے غیر مستقل ارکان کا انتخاب کرلیا۔

نئے ممالک کا انتخاب اہم نوعیت کے اجلاس کے دوران عالمی ادارے کے 193 رکن ممالک کی جانب سے خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا گیا، نومنتخب ممالک دو برس تک سلامتی کونسل کے رکن رہیں گے۔

سلامتی کونسل کے نومنتخب ممبران میں ایکواڈور، جاپان، مالٹا، موزمبیق اور سوئٹزر لینڈ شامل ہیں جو آئندہ برس کے اختتام تک بھارت، آئر لینڈ، کینیا، میکسیکو اور ناروے کی سلاتی کونسل میں دو سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد یکم جنوری 2023ء کو انکی جگہ لیں گے۔

جنرل اسمبلی کے صدرعبداللہ شاہد نے خفیہ رائے شماری کے نتائج کا اعلان کیا اور کامیاب ہونے والے ممالک کو مبارکباد دی۔ نتائج کے مطابق 193 ارکان پر مشتمل اقوام متحدہ میں ہونے والی خفیہ رائے شماری میں ایکواڈور کو 190، جاپان 184، موزمبیق 192 اور سوئٹزرلینڈ کو 187 ووٹ ملے۔

موزمبیق اور سوئٹزر لینڈ پہلی مرتبہ سلامتی کونسل کے ممبر بنے ہیں، جاپان بارہویں، ایکواڈور تیسری اور مالٹا دوسری بار سلامتی کونسل کا رکن بننے میں کامیاب ہوا ہے۔

سوئس صدر اگنازیو کاسی نے اپنے بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ میں شمولیت کے 20 برس بعد ہم سلامتی کونسل کے رکن بنے ہیں، آج ہمارے ملک کیلئے اہم دن ہے، ہم اس دنیا کے مسائل حل کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ جاپان کے نائب وزیر خارجہ نے کہا انکا ملک خوراک، توانائی اور انسانی تحفظ سے متعلق امور پر اپنا موثر کردار ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل 15 ارکان پر مشتمل باڈی ہے جس کا کام عالمی امن و سلامتی کا تحفظ کرنا ہے اس کے پانچ مستقل ارکان میں امریکا، برطانیہ، روس، چین اور فرانس شامل ہیں، ان پانچ ممالک ویٹو پاور (حق استرداد) بھی حاصل ہے، جبکہ 10 ارکان غیر مستقل ہوتے ہیں جن کا انتخاب دو سال کیلئے کیا جاتا ہے۔

Related Posts