اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اتوار کی رات 9 بجے ملک گیر احتجاج کی کال دیدی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم گئے تو پیٹرول 150 روپے فی لٹر تھا، قوم اتوارکی رات 9 بجے ملک گیر احتجاج کیلئے نکلے، اتوار کی رات 10بجے قوم سے مخاطب ہوں گا، یہ اب تک پٹرول کی قیمت میں 85 روپے اضافہ کر چکے ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت میں ملک میں خوشحالی آرہی تھی، ہماری حکومت نے کورونا کے دوران 55 لاکھ نوکریاں دیں، جب ملک ترقی کررہا تھا انہوں نے مہنگائی کا بہانہ بنایا، ان سب کا ایک ہی مقصد اربوں روپے کی چوری کے لیے این آراوٹولینا، شہبازشریف کا اوپن اینڈ شٹ کیس تھا بچ نہیں سکتا تھا، شہبازشریف اب خود ایف آئی اے کے اوپربیٹھ گیا ہے۔
عمران خان نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں 115 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا، پٹرول کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔ سیاسی جماعتوں کو بھی پرامن احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہا ہوں، پر امن احتجاج کرنا ہماراآئینی اورجمہوری حق ہے۔ہمارے ساڑھے 3 سالوں میں پٹرول صرف 50 روپے بڑھا تھا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ آٹے کا تھیلا ہماری حکومت میں 1100 کا تھا جو اب 1500 کا ہو گیا، گھی کی قیمت بھی فی کلو 400 سے بڑھ کر 650 روپے کلو تک پہنچ گئی۔بجلی ہم 16 روپے فی یونٹ چھوڑ کر گئے تھے۔ آج بجلی 29 روپے فی یونٹ ہو گئی جو مزید بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ 50 سال میں ملک میں کسی نے ڈیم نہیں بنایا تھا، ہماری حکومت میں ڈیم بننا شروع ہوئے، بلین ٹری سونامی کا اعتراف برطانوی وزیراعظم نے خود کیا۔
مزید پڑھیں:عوام نے اسٹینڈ نہیں لیا تو ملک کی حالت مزید ابتر ہوجائے گی، عمران خان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








