لیڈی پولیس کانسٹیبل کے مقدمہ قتل میں مدعا علیہان کی عدم دلچسپی

تازہ ترین

تازہ ترین

وفاقی پولیس کی مقتولہ لیڈی کانسٹیبل اقراء کے کیس میں مدعی اور مدعا علیہان میں سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا،جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کر دی۔

مقتولہ کانسٹیبل کے والد کی طرف سے پولیس افسران کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ طاہرعباس سپرا کی عدالت میں دیے گئے استغاثہ کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر درخواست گزار اوران کے وکیل عدالت میں پیش نہ ہوئے اور نہ ہی جواب دہندگان میں سے کوئی عدالت میں پیش ہوا۔ جس پر عدالت نے مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 21جون تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 18مارچ 2022ء کولیڈی کانسٹیبل اقراء نذیر کو زہر دیکر قتل کیاگیاتھا۔جس کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ میں درج ہے۔مقتولہ کے والد پاک نیوی کے ریٹائرڈ ملازم نذیراحمد نے عدالت میں استغاثہ کی درخواست دیتے ہوئے سابق ایس پی ہیڈ کوارٹر آمنہ بیگ، لیڈی کانسٹیبل جویریہ، لیڈی کانسٹیبل صغریٰ، لیڈی کانسٹیبل سدرہ، لیڈی کانسٹیبل کرن، لیڈی کانسٹیبل افسرجہاں پر الزام لگایا کہ یہ تمام اقراء کے قتل میں ملوث ہیں۔

درخواست میں ایس پی سٹی کامران عامر، سب انسپکٹر میاں عمران، ایس ایچ او تھانہ آبپارہ سید عاصم زیدی اورایس ایچ او تھانہ وویمن اے ایس آئی مصباح سلیم پر بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ان پولیس افسران نے باہم صلاح مشورہ سے غلط رنگ دے کر اور شہادتوں کو چھپا کر اصل ملزمان کو غیرقانونی تحفظ فراہم کیا۔

استغاثہ کی یہ درخواست9جون 2022ء کو سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ تھانہ آبپارہ عمر شبیر کی عدالت میں دی گئی تھی۔ جو قتل کی دفعہ 302 کے باعث 10جون 2022ء کو ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ طاہرعباس سپرا کی عدالت میں ٹرانسفر ہوئی۔

10جون کو پہلی سماعت کے دوران عدالت نے تمام نامزد پولیس افسران و ملازمین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت سترہ جون تک ملتوی کردی تھی۔تاہم 17جون کو دوسری سماعت کے موقع پر درخواست گزار نذیراحمد، ان کے وکیل محمدظفر کھوکھرایڈووکیٹ اورتمام جواب دہندگان عدالت میں پیش نہ ہوئے۔جس پر عدالت نے مدعاعلیہان کودوبارہ نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 21جون2022ء تک ملتوی کردی ہے۔

Related Posts