کراچی: سابق وزیر اعظم عمران خان کا قائم کردہ ادارہ قومی رحمۃ للعالمین اتھارٹی کا آرڈیننس 9 جون 2022 کو ختم ہونے سے قبل موجودہ حکومت نے 6 جون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں 9 جون کو ترمیم کے ساتھ نیا بل منظور کر لیا تھا لیکن صدر مملکت کی جانب سے اب تک بل پر دستخط نہیں ہو سکے ہیں۔ اس طرح 9 جون کے بعد سے اب تک اتھارٹی کا قانونی وجود ختم ہو چکا ہے اور اتھارٹی میں موجود 2 اعزازی اور تین مستقل ممبران کے علاوہ اتھارٹی چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل کی بھی مدت ملازمت ختم ہو چکی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ حکومت کی قائم کردہ قومی رحمۃ للعالمین اتھارٹی کو جاری رکھتے ہوئے 6 جون کو قومی اسمبلی اور 9 جون کو سینیٹ سے اتھارٹی کے نام میں خاتم النبیین کے اضافہ اور دیگر ترامیم کے ساتھ بل منظور کرا لیا گیا تھا۔ وزیر اعظم آفس کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی ایڈوائس کے بعد بل صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط اب تک نہیں ہو سکے ہیں جس کے باعث قانونی طور پر اتھارٹی کی حیثیت فی الحال ختم ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت کے دستخط ہوتے ہی اتھارٹی اپنے نئے وجود اور نئے نام قومی رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے ساتھ قائم ہو گی۔ وزارت تعلیم کے ایک اہم افسر نے بتایا ہے کہ اتھارٹی میں پہلے سے موجود 5 ممبران، چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل کی قانونی حیثیت جاننے کے لیے وزارت قانون و انصاف کو خط لکھا گیا تھا۔
ادھر وزارت قانون و انصاف کے ایک ذریعے کے مطابق اتھارٹی آرڈیننس کی مدت آخری 9 جون تھی۔ اگر 9 جون کو بل منظور ہوتے ہی صدر مملکت اسی تاریخ کو دستخط کر دیتے تو یہ تمام ارکان اسی طرح مدت ملازمت جاری رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ اب تعطل پیدا ہو چکا ہے لہذا قانونی طور پر اتھارٹی کا وجود ختم ہو گیا ہے اور وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کو 9 جون سے قبل ہی تمام ممبران ڈائریکٹر جنرل کو ڈی نوٹی فائی کر دیا جانا چاہیے تھا۔
اتھارٹی میں دو اراکین ڈاکٹر محمد الیاس، ڈاکٹر مدثر علی اعزازی ، ڈاکٹر عائشہ لغاری، ڈاکٹر تنویر انجم ،ڈاکٹر محمد عامر طاسین مستقل تین سال کے لیے نوٹی فائی کیے گئے تھے، لہذا توقع ہے کہ کوئی مستقل رکن اپنی مدت ملازمت کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت سے حکم امتناع بھی حاصل کر سکتا ہے۔
اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر انیس احمد بھی اعزازی تھے اور انہوں نے 9 جون سے قبل ہی وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو اپنا استعفی بھجوا دیا تھا جو کہ منظور تو نہیں ہوا ہے لیکن مبینہ طور پر 9 جون کے بعد خود ہی اس کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس کے معتبر ذرائع یہی بتاتے ہیں موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد ہی اتھارٹی کے لیے مذہبی اتحادی جماعت میں سے کسی معروف مذہبی شخصیت کو چیئرمین نامزد کرنے کے علاوہ ایکٹ کے مطابق 8 نئے ممبران جو کہ سیرت کے شعبہ میں محقق ہونے کے علاوہ مختلف شعبہ جات میں کم از کم 15 سے 20 سالہ تجربہ رکھنے والے ماہر اور 2 ممبر قومی اسمبلی کے ارکان جن میں ایک حکومتی نمائندہ اور دوسرا اپوزیشن سے منتخب کیا جائے گا۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر کو یہ ذمہ داری دے دی گئی ہے ۔
وزارت تعلیم کے ذرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نئے ممبران کی تقرری کے لیے ابھی سے ملک کی سیاسی مذہبی جماعت کی نمائندہ شخصیات ایکٹ میں ترمیم کے بعد دینی مدارس کی اعلیٰ سند کی بنیاد پر اثر و رسوخ اور لابنگ کر رہی ہیں تاکہ ان کے بھی کچھ لوگ رکھے جائیں اور اس حوالے سے وزیر تعلیم رانا تنویر حسین اور وزارت کے مختلف سینئر افسران سے بھی رابطہ کیے جارے ہیں۔
ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت رانا تنویر حسین نے سابقہ تمام ممبران کی 5 ماہ کی کارکردگی رپورٹ سیکرٹری ایجوکیشن اور متعلقہ شعبہ سے طلب کر لی ہے۔ لیکن کچھ اراکین کے انتخاب پر اتحادی مذہبی جماعت کی سفارش کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ البتہ اتھارٹی ایکٹ کے مطابق کسی ممبر کے انتخاب کرنے یا نہ کرنے پر وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا فیصلہ حتمی ہو گا۔