ڈالر کے انٹربینک نرخ میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے اقتصادی اقدامات سے متعلق مسودہ منگل کی صبح موصول ہونے کے بعد ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کی قسط جاری ہونے کے امکانات روشن ہونے، فرانس کے 107 ملین ڈالر کے علاوہ جی ٹونٹی ممالک کی جانب سے 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کے واجب الادا قرضوں کی وصولیاں موخر کرنے کی سہولت اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے محفوظ قرض کے طور پر حکومت کی ملکیتی پاکستانی کمپنیوں میں دس سے بارہ فیصد کی سرمایہ کاری دلچسپی جیسے عوامل کے باعث منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں تنزلی واقع ہوئی۔
تنزلی سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 207 روپے سے بھی نیچے آگئے تاہم ڈالر کے اوپن ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 1.07 پیسے کی کمی سے 206.87 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔
اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 206.50 روپے پر مستحکم رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں متوقع کمی کے پیش نظر ایکسپورٹرز کی جانب سے بھی اپنی زرمبادلہ کی برآمدی آمدنی کو انٹربینک مارکیٹ میں بھنایا گیا جس سے مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی بڑھ گئی اور ڈالر ایک بار پھر تنزلی سے دوچار ہوا۔